تہران/دبئی: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ چھٹے مہینے میں داخل ہوگئی ہے، جبکہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ایرانی افواج آگ کا جواب آگ سے دیں گی۔
اقوام متحدہ کی بحری ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں تقریباً 400 بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں، جن پر تقریباً 6,000 ملاح سوار ہیں۔ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگویز نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال تاحال حل طلب ہے اور رکن ممالک سے اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں آزادانہ جہاز رانی کی بحالی کے لیے مزید سیاسی کوششوں کا مطالبہ کیا۔
ایران کا دفاعی اور سفارتی مؤقف
پریس ٹی وی کے مطابق عراقچی نے 40ویں بین الاقوامی اسلامی اتحاد کانفرنس کے شرکاء سے مشاورتی ملاقات میں کہا کہ دشمنوں نے گزشتہ جنگ میں شکست کے بعد ایرانی عوام کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کی، لیکن اب وہ ملک میں تقسیم پیدا کرنے، مسلح گروہ بھیجنے اور عدم تحفظ پھیلا کر اسلامی جمہوریہ کی قانونی حیثیت کو کمزور کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔
ایرانی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی پابندیوں اور اسرائیلی سازشوں کے خلاف ڈٹے رہیں گے، اور سفارت کاری اور دفاع ملکی مفادات، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کے تکمیلی، مربوط اور ناقابل تقسیم اوزار ہیں۔ حکومت مہنگائی پر قابو پانے، روزگار کی فراہمی، مقامی پیداوار کی حمایت اور ڈالر پر انحصار کم کرنے پر بیک وقت توجہ دے گی۔
ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ اور امریکی مؤقف
ایران کی پاسداران انقلاب نیوی نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اس کا مکمل کنٹرول ہے۔ نیوی کے بیان میں کہا گیا کہ پابندیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں ختم نہیں ہوتیں اور متعلقہ وعدے پورے نہیں کیے جاتے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری اینا کیلی نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات جاری نہیں ہیں اور نہ ہی طے شدہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور بارودی سرنگوں سے پاک ہے، جبکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔
معیشت پر جنگ کے اثرات
رائٹرز کے مطابق ایرانی رہنما جنگ کے معاشی نقصانات کو تسلیم کر رہے ہیں۔ صدر نے اطلاع دی کہ امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کی وجہ سے غیر ملکی تجارت میں 35 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ سالانہ مہنگائی کی شرح گزشتہ ماہ 66 فیصد تک پہنچ گئی۔
سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو 28 فروری کے حملے میں زخمی ہوئے تھے اور اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد منظر عام پر نہیں آئے، نے ایک تحریری بیان میں حکومت سے معاشی مشکلات جیسے مہنگائی، بے روزگاری، قیمتوں کے انتظام اور اشیاء و خدمات کی منڈی پر سنجیدگی سے توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔
پابندیوں کی نئی لہر
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے منسلک ہانگ کانگ میں قائم ایک ادارے اور بینک میلی سے وابستہ ایک شخص پر نئی پابندیاں عائد کیں۔ اس کے علاوہ مصر کے بینک مصر کی متحدہ عرب امارات میں شاخوں کو ڈالر لین دین سے روکنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس پر مصری مرکزی بینک نے امریکی حکام سے رابطے کی تصدیق کی ہے۔
ایران نے ان پابندیوں کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ڈالر کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے دیگر ممالک پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی مداخلت پسند پالیسیاں مسلط کر رہا ہے۔
علاقائی اور بین الاقوامی ردعمل
چین نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات کو واحد قابل عمل راستہ قرار دیا ہے اور یکطرفہ امریکی پابندیوں کی مخالفت کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکی اور سعودی عرب کے ہم منصبوں سے ٹیلی فونک گفتگو میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد معاہدے کو ایران کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی اتحاد اور یکجہتی ہی ایران کی موجودہ پوزیشن کی ضمانت ہے۔
دریں اثنا اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان کے ایک گاؤں کے مضافات میں دھماکے کیے ہیں، جبکہ لبنانی ذرائع کے مطابق اسرائیل اپنے انتخابات سے قبل مذاکرات کو مؤخر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
