geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
March 20, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    • A new geopolitical chessboardچین کے عروج سے بدلتی عالمی طاقت کی کشمکش
    صحت و تندرستی
    • Long Covid's Psychological Theory Sparks Patient Outcryطویل کووڈ: علاج کی تلاش میں نفسیاتی نظریہ متنازعہ بن گیا
    • The '777 Rule' for Couples: Viral Trend or Relationship Savior?جوڑوں کے لیے ‘777 اصول’: کیا یہ محض ایک وائرل ٹرینڈ ہے یا مفصل مشورہ؟
    • Deep Sleep May Shield Brain from Alzheimer's, Study Findsگہری نیند: الزائمر کے خلاف دماغی ڈھال کا نیا سائنسی انکشاف
    دلچسپ اور عجیب
    • Russia's S-500 Prometheus: The Next-Gen Air Defense Systemروسیہ کا ایس-500 پرومیٹھیس: ہوا سے ہوا میں مار کرنے والا نیا جنگی نظام
    • The Night Belongs to Us: Women's Complex Relationship with Darknessرات اور عورت: آزادی کی خواہش اور خوف کے درمیان محصور وجود
    • Smart Glasses Raise Privacy Concerns: How to Protect Yourselfدیکھنے میں عام مگر خطرناک: اسمارٹ عینکیں اور آپ کی رازداری کا بحران
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • AI Pioneer Yann LeCun's Startup AMI Raises $1 Billionیان لی کن کی اے آئی اسٹارٹ اپ اے ایم آئی نے ‘ورلڈ ماڈلز’ کے لیے ایک ارب ڈالرز کی فنڈنگ حاصل کر لی
    • Smart Glasses Raise Privacy Concerns: How to Protect Yourselfدیکھنے میں عام مگر خطرناک: اسمارٹ عینکیں اور آپ کی رازداری کا بحران
    • Pakistan to Witness 'Blood Moon' in Total Lunar Eclipse Todayآج پاکستان کے آسمان پر ‘خون کے چاند’ کا نظارہ، مکمل چاند گرہن واقع ہوگا
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

کیا لال مسجد دوبارہ یرغمال بننے جا رہی ہے؟

February 10, 2020 0 1 min read
Lal Masjid
Share this:

Lal Masjid

تحریر : شہزاد حسین بھٹی

آمدہ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد میں محکمہ اوقاف کے زیرِ انتظام لال مسجد پر ایک مرتبہ پھر مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز نے قبضہ کر لیا ہے اور موجودہ حکومت سے جہاد کشمیر شروع کرنے اور شریعت کے نافذ کا مطالبہ کیا ہے۔مولانا عبدالعزیز جو اس مسجد کے خطیب بھی رہ چکے ہیں ان کی طرف سے تین مطالبات کیے گئے ہیں جن میں مسجد سے متصل سرکاری زمین پر بنائے گئے مدرسے کو بھی از سر نو تعمیر کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ حکومت نے یہ مدرسہ فوجی آپریشن کے دوران یہ کہہ کر مسمار کر دیا تھا کہ یہ سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا ہے۔مولانا عبدالعزیز نے گذشتہ جمعے کا خطبہ دیا اور اپنے مطالبات دہرائے۔ ان سے مسجد کا قبضہ واپس لینے کے لیے انتظامیہ نے ان سے مذاکرات شروع کیے تاہم ابھی تک تعطل کی صورت حال برقرار ہے۔

ریاست کے اندرریاست بنانے کا کام ایک بار پھر شروع ہوگیا۔اسلام آباد کے اندر لال مسجد سے متصل مدرسہ اسلام آباد کے لیے مسلسل ایک سیکورٹی تھریٹ رہا ہے۔ سیکورٹی کی یہ صورت حال اس وقت منظر عام پر آئی جب گذشتہ جمعہ کو لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز نے مسجد میں زبردستی قبضہ کر لیا اور نماز جمعہ کے خطبہ میں حکومت کو نہ صرف للکارا بلکہ اپنے مطالبات ایک بار پھر سامنے لائے۔حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے قانون نافذکرنے والے اداروں نے مسجد کو گھیرے میںلے لیا اور نمازیوں کو مسجد میں جانے سے روک دیا۔اس تنازعے کی بنیاد مولانا عبدالعزیز کی بطور خطیب لال مسجد سے بے دخلی ہے۔ مولانا عبدالعزیز اور انکا خاندان لال مسجد اور جامعہ حفضہ کو اپنی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیںاور یہیں سے یہ اپنی طاقت ایک بار پھر دکھانے کی سعی کیے ہوئے ہیں۔ لال مسجد سے ریاست کوچیلنج اور لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کرنے کے پیچھے بھی خفیہ ہاتھ اور ملک دشمن عناصر کار فرما ہو سکتے ہیں جو پاکستان کے دنیا بھر میں ابھرتے مثبت امیج بلکہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کے نکلنے کے عمل کو بھی سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔

مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ وہ اپنے ان تین مطالبات کے پورے ہونے تک انتظامیہ یا حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اس مسجد کے لیے ان کے والد اور بھائی نے قربانیاں دی ہیں اور حکومت ان کو یہاں سے بے دخل نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ اور ایسی مساجد ہیں جہاں خطیب ریٹائرڈ ہوئے مگر اس کے باوجود نئے خطیب تعینات نہیں کیے گئے تو ایسے میں انھیں زبردستی ہٹا کر لال مسجد میں نئے خطیب کی تقرری میں اتنی عجلت کیوں برتی گئی ہے۔مولانا عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ بعض اوقات پولیس ان کے لیے کھانا لے کر آنے والوں کو بھی روک لیتی ہے، تاہم پولیس نے اس کی تردید کی ہے۔ مولانا عبدالعزیز یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تنازع انھیں خطابت سے ہٹانے کے بعد شروع ہوا۔ ان کے مطابق اس مسجد کا نظم و نسق ان سے بہتر کوئی نہیں چلا سکتا۔

13 سال قبل وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی جی سکس میںواقع لال مسجدکے منبر سے ریاست کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سرعام مسجد اور مدرسے سے آتشیں اسحلہ کی نمائش کی گئی اورحکومت وقت کو للکارہ گیا کہ اگر انہوں نے آپریشن کیا تو ان کے خلاف زبردست ری ایکشن دیکھایا جائے گا۔ جس پر اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کے حکم پرسنہ2007 میں لال مسجد میں فوجی آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں لال مسجد کی سابق انتظامیہ کے بقول خواتین بھی شامل تھیں۔ ایک بڑی تعداد میں قانون نافذکر نے والے جوانوں کی بھی ہلاکت ہوئی تھی جہنیں جامعہ حفظہ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔مولانا عبدالعزیز اس آپریشن میں خواتین کا برقعہ اوڑھ کر فرار ہو گئے تھے، جبکہ ان کی والدہ اور بھائی اس آپریشن میں ہلاک ہو گئے تھے۔اسلام آباد میںمرد اور خواتین کے مدرسوں کی بہتات ہے۔ صرف اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں خواتین کے مدرسوں میں موجود طالبات کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہے بتائی جاتی ہے۔چار سال قبل مولانا عبدالعزیز نے دو مختلف مقدمات سے ضمانت ملنے کے بعد سنہ 2016 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف سمیت لال مسجد آپریشن کے تمام کرداروں کو معاف کرنے سے متعلق بیان دیا تھا۔عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ وہ سنہ 2007 میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف فوجی آپریشن کرنے والے سابق فوجی صدر پرویز مشرف سمیت دیگر تمام کرداروں کو معاف کرنے کو تیار ہیں۔جن دو مقدمات میں ان کی عبوری ضمانت منظور کی گئی ان میں سول سوسائٹی کے کارکنوں کو دھمکیاں دینے کے علاوہ مذہبی منافرت اور حکومت کے خلاف شرانگیز تقاریر کرنے کے مقدمات شامل تھے۔

تھانہ آبپارہ کے پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ دو دن سے لال مسجد کے اردگرد سکیورٹی پر مامور ہیں۔تھانہ آبپارہ کے انچارج نے عدالت میں رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں مقدمات میں مولانا عبدالعزیز کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ ان مقدمات میں اگر اْنہیں گرفتار کیا جاتا تو اس سے وفاقی دارالحکومت میں امن عامہ کو شدید خطرہ لاحق ہو جاتا۔یاد رہے کہ فروری 2018 میںسندھ کے صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملے میں لال مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اور مولانا غازی عبدالرشید کے قریبی رشتے دار ملوث تھے۔کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کے مطابق غلام مصطفیٰ مزاری ماسٹر مائنڈ جبکہ صفی اللہ مزاری سہولت کار تھے۔قلندر شہباز کے مزار پر خودکش بم حملے میں محکمہ صحت کے حکام کے مطابق 87 افراد ہلاک جبکہ 329 زخمی ہوگئے تھے، چھ افراد کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے انھیں لاوارث قرار دیکر ایدھی حکام نے دفنا دیاتھا۔

موجودہ حکومت اور قانون نافذکرنے والے اداروں کو لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے اچانک منظر عام پر آنے اور زبردستی منبرپر ریاست کو چیلنج کرنے اور مسجد سے متصل سرکاری زمین پر مدرسہ دوبارہ تعمیر کرنے کے مطالبات پرفوری قانونی راستہ اپنانے کی ضرورت ہے ۔ کسی بھی قسم کی لچک یا سستی کسی بڑے سانحے کی موجب بن سکتی ہے۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو قرار واقعی سزاء دی جانی چاہیے اور اہلیان جی سکس اور سیون کے مکینوں کی زندگیوں کو ایک بار پھر جہنم بنانے سے تحفظ دینا ہو گاتاکہ انکی زندگیاں دوبارہ اجیرن نہ بنائی جا سکیں۔
Shahzad Hussain Bhatti

تحریر : شہزاد حسین بھٹی

Share this:
Rohingya Muslims
Previous Post روہنگیائی مسلمانوں پر مظالم اور مسلم امہ کی بے حسی
Next Post کبڈی ورلڈ کپ: بھارت نے جرمنی کو زیر کر لیا
Kabaddi World Cup

Related Posts

Netanyahu Claims Iran's Nuclear and Missile Capabilities Destroyed

ایران کی یورینیم افزودگی اور بیلسٹک میزائل کی صلاحیت ختم ہوگئی، نیٹن یاہو کا دعویٰ

March 19, 2026
Israeli Police Assault Journalists Covering Ramadan Prayers in Jerusalem

یروشلم: فلسطینیوں کی تروایح کی نماز کے دوران اسرائیلی پولیس کا صحافیوں پر تشدد، سی این این پروڈیوسر کا ہاتھ ٹوٹا

March 19, 2026
French Weatherman Drops Viral '6-7' Meme on Live TV

فرانس کے موسمیات کے پروگرام میں وائرل ’6-7‘ میم کا غیر متوقع حوالہ

March 19, 2026
Toulouse Left-Wing Candidates Jeered at Merah Attack Memorial

ٹولوز میں انتخابی کشیدگی: یادگاری تقریب میں بائیں بازو کے امیدواروں کی للکار

March 19, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.