اسرائیل نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تصادم کے دوران وہ بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹرز کی شدید قلت کا شکار ہے، جس سے اس کے فضائی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
دفاعی ذخائر پر شدید دباؤ
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیل اس جنگ میں داخل ہوتے وقت ہی انٹرسیپٹرز کی کمی کا شکار تھا، کیونکہ گزشتہ موسم گرما میں ایران کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اس نے اپنے بیشتر ذخائر استعمال کر لیے تھے۔ ایران کی جانب سے حالیہ حملوں نے اس طویل فاصلے کے فضائی دفاعی نظام پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔
امریکہ کو پہلے سے تھی معلومات
ایک امریکی اہلکار کے مطابق، واشنگٹن کو مہینوں سے اسرائیل کی محدود انٹرسیپٹر گنجائش کے بارے میں علم تھا اور یہ “ایسی چیز تھی جس کی ہم نے توقع اور پیشین گوئی کی تھی”۔ اہلکار نے یہ بھی کہا کہ امریکہ خود اسی قسم کی قلت کا شکار نہیں ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا وہ اسرائیل کو انٹرسیپٹرز فروخت کرے گا یا بانٹے گا۔
امریکی ذخائر پر اثرات
رپورٹس کے مطابق، گزشتہ جون میں ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران امریکہ نے 150 سے زائد ٹھاڈ (THAAD) انٹرسیپٹر فائر کیے، جو اس وقت امریکی انوینٹری کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ کچھ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موجودہ تنازع کے پہلے پانچ دنوں میں امریکہ نے تقریباً 2.4 ارب ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ انٹرسیپٹر استعمال کیے۔
متبادل دفاعی حکمت عملی
اگرچہ اسرائیل کے پاس ایران کے میزائلوں سے بچاؤ کے دیگر ذرائع بشمول فائٹر جیٹس موجود ہیں، لیکن انٹرسیپٹرز طویل فاصلے کے حملوں کے خلاف سب سے مؤثر دفاعی ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔ آئیرن ڈوم نظام مختصر فاصلے کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
طویل جنگ کی تیاریاں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ جنگ “جلد” ختم ہو سکتی ہے اور اسے “قلیل مدتی کارروائی” قرار دیا تھا۔ تاہم، امریکہ، اسرائیل اور ایران تینوں نے طویل تنازع کی تیاریوں کے اشارے دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی ذخائر ٹرمپ کے مقاصد کے حصول کے لیے “کافی سے زیادہ” ہیں۔
