طالبان دعوؤں کی تردید اور تازہ ترین کارروائی
پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے سرحدی چوکی پر قبضے کے دعوے کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، پاکستانی فوجی کارروائیوں میں کم از کم 663 طالبان جنگجو ہلاک اور 887 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ آپریشن غضب للہق کے تحت افغانستان بھر میں 70 دہشت گرد حمایتی مقامات کو ہدف بنایا گیا۔
کندھار میں اہم سرنگ تباہ
حفاظتی ذرائع کے مطابق، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے 14 اور 15 مارچ کی درمیانی رات کو کندھار میں ایک انتہائی اہم تکنیکی سازوسامان ذخیرہ کرنے والی سرنگ کو تباہ کر دیا۔ یہ سرنگ مبینہ طور پر دہشت گردوں کی جانب سے حساس اور جدید تکنیکی آلات کے ذخیرے کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔
صدر زرداری کا سخت ردعمل
صدر آصف علی زرداری نے افغان سرزمین سے پاکستان کے رہائشی علاقوں پر کیے گئے ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو “ریڈ لائن” عبور کرنے کا عمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان نے شہریوں کو نشانہ بنا کر سنگین حد پار کر لی ہے۔
فوجی کارروائیوں کے اہم ہدف
حفاظتی ذرائع کے مطابق، پاکستان کی مسلح افواج نے گزشتہ کئی روز کے دوران افغانستان کے اندر متعدد اہم دہشت گرد ڈھانچوں کو نشانہ بنایا، جن میں شامل ہیں:
- کابل میں 313 کور کا انفراسٹرکچر
- کندھار ایئرفیلڈ پر تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات
- پکتیا صوبے میں شیرین نو اور تاراواو دہشت گرد کیمپ
- کندھار میں دہشت گردوں کے اہم پناہ گاہیں
طالبان ڈرونز کا مؤثر انٹرسیپشن
آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کے جانب سے چلائے گئے ابتدائی نوعیت کے ڈرونز کو ان کے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی انٹرسیپٹ کر لیا۔ تاہم، ان ڈرونز کے ملبے کی وجہ سے کوئٹہ میں دو بچوں سمیت متعدد شہری زخمی ہوئے۔
سرحدی محاذ پر کارروائی جاری
ذرائع کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے قریب صادق گاؤں کے نزدیک افغان طالبان اور فتنہ الخوارج سے منسلک دہشت گردوں کی سرحد پار کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ آپریشن غضب للہق کے تحت کارروائیاں جاری ہیں اور اہداف حاصل ہونے تک جاری رہیں گی۔
