اسرائیلی فوج نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس رہنماؤں کے رہائشی کمپلیکس پر ہوائی حملہ کر دیا۔ حملے کے دوران حماس کے اعلیٰ رہنما غزہ میں جنگ بندی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ منصوبے پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ “اسرائیل نے اس کارروائی کا آغاز کیا، اسے انجام دیا اور اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہے”۔ قطر کے خارجہ محکمے کے ترجمان نے اس حملے کو “بزدلانہ” اور “بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر اس حملے پر شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ ڈچ فٹبال اسٹار انور الغازی نے سوال کیا کہ “دنیا کب جاگی گی؟” صحافی محمد الکرد نے پوچھا کہ “اسرائیل کے علاوہ کون سا ملک ایسی حرکتوں سے بچ نکلتا ہے؟” فلسطینی مصنف ڈاکٹر یارا ہواری نے مغربی سامراجیت کو اسرائیلی جارحیت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے قطر کے امیر سے فون پر بات چیت میں کہا کہ “پاکستان اس مشکل گھڑی میں قطر کے ساتھ کھڑا ہے اور امت مسلمہ سے ایسی جارحیت کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کرتا ہے”۔
اس واقعے نے قطر کی دفاعی تیاریوں اور امریکی سلامتی کے وعدوں کی افادیت پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ قطر میں امریکی فوج کا اہم اڈہ القعید ایئر بیس موجود ہے جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔
اسرائیلی کنیسٹ کے اسپیکر نے ایک ویڈیو کے ساتھ عربی میں لکھا کہ “یہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک پیغام ہے”۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ جیرمی کوربن اور امریکی سینیٹر برنی سینڈرز سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جیسے جیسے اسرائیل غزہ میں اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور خطے کے دیگر ممالک پر اپنی جارحیت میں توسیع کر رہا ہے، عالمی سطح پر غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ عالمی رہنما اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
