سیین کے کنارے چواسی-لی-رائے میں قتل: رات کی تاریکی، عارضی ملاقاتیں اور غربت کی داستان

سیین کے کنارے واقع چواسی-لی-رائے کا علاقہ، جو دن میں سائیکل سواروں کی پُرسکون پٹڑی نظر آتا ہے، رات کے اندھیرے میں تشدد اور غربت کا مرکز بن جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ تیرہ اگست کو یہاں چار مردوں کی لاشیں دریائے سیین میں تیرتی ہوئی پائی گئیں، جن کے قتل کے بعد سے یہ مقام خوف اور بدامنی کی علامت بنا ہوا ہے۔

مقامی رہائشی اور کارکن ٹیرینس کھچادوریان بتاتے ہیں کہ “یہاں دو نوجوان بے گھر مغربی نوجوانوں کے قتل ہوئے ہیں۔ ہم ان کے اہلِ خانہ کی تلاش میں ہیں۔” وہ اس علاقے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں سیین کا سیاہ پانی اور ریلوے لائن کے درمیان گھنی جھاڑیاں ہیں۔ گذشتہ تین ہفتوں سے وہ ہر رات یہاں آ کر لوگوں سے بات کر رہے ہیں تاکہ مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔

مشتبہ ملزم مونجی ایچ، جسے بیس اگست کو گرفتار کیا گیا، ایک بے گھر تیونسی نوجوان تھا جو کئی ماہ سے یہاں ایک کچی جھونپڑی میں رہ رہا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ رات کے وقت غیر محفوظ ہو جاتا ہے جہاں غربت زدہ افراد اور مہاجرین کا آنا جانا رہتا ہے۔

مقامی حکام تحقیقات میں مصروف ہیں، لیکن یہ واقعات اس علاقے میں بڑھتی ہوئی عدم تحفظ کی عکاسی کرتے ہیں۔ سیین کا یہ حصہ، جو دن میں خوبصورت نظر آتا ہے، رات کے وقت ایک خوفناک مقام بن جاتا ہے جہاں غربت اور مجبوری کے باعث لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔