اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ میں چار ایڈیشنل ججز کی تقرری کے لیے نام طلب کرلیے ہیں۔ یہ اقدام 6 فروری کو ہونے والے کمیشن کے اجلاس کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے، جس میں ایڈیشنل ججز کی نامزدگی کے لیے ممبران کو خطوط ارسال کیے گئے ہیں۔
کمیشن کی جانب سے جاری کردہ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تقرری ضلعی عدالتوں سے کی جائے گی۔ اس سلسلے میں نام 13 فروری تک جمع کرائے جائیں گے۔ جوڈیشل کمیشن کی اس کارروائی کا مقصد عدالتوں میں موجودہ ججز کی کمی کو پورا کرنا اور عدالتی نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
اس دوران سپریم کورٹ کے ججز نے بھی ایک اہم خط ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے آئینی ترمیم کیس کے فیصلے تک نئے ججز کی تعیناتی روکنے کی درخواست کی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ آئینی بینچ نے ہی کیس سنا تو عوام کا اعتماد مزید متزلزل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی کے ممبر نے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ علی ظفر نے چیف جسٹس کو خط میں کہا ہے کہ ججز کی ٹرانسفر کی وجہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی سینیارٹی لسٹ میں تبدیلی کی گئی ہے، لہذا یہ مناسب ہوگا کہ مسئلے کے حل ہونے تک کمیشن کا اجلاس مؤخر کیا جائے۔
یہ صورتحال عدالتی نظام میں جاری تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے اور یہ دیکھنا ہوگا کہ آئندہ آنے والے دنوں میں ان مسائل کا حل کیا نکلتا ہے۔
