دفاعی تعاون اور مصنوعی ذہانت پر تبادلہ خیال
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کے دورے پر پہنچ گئے ہیں جہاں وہ دو روزہ دورے کے دوران دفاعی تعاون اور مصنوعی ذہانت سمیت اہم امور پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور خطے میں فوجی تصادم کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
تعلقات میں نئی جہتوں کا اضافہ
اسرائیلی حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی جہتیں کھولے گا اور متعدد شعبوں میں نئی شراکت داریوں کا راستہ ہموار کرے گا۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق دوطرفہ تعلقات میں اہم اضافے کی تیاریاں ہیں۔
کنیسٹ میں خطاب اور یاد واشم کا دورہ
وزیراعظم مودی اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں خطاب کریں گے اور ہولوکاسٹ میموریل یاد واشم پر پھول چڑھائیں گے۔ یہ مودی کا اسرائیل کا دوسرا دورہ ہے، جس سے قبل وہ 2017 میں پہلے بھارتی وزیراعظم بنے تھے جنہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔
امریکی فوجی تعیناتی اور علاقائی خطرات
یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ نے ایران کے ساحل کے قریب وسیع بحری فوجی دستے تعینات کیے ہیں۔ پینٹاگون نے بحیرہ روم میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر بھی تعینات کیا ہے جو اسرائیل کے ساحل کی طرف جا رہا ہے۔
بھارتی تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے کبیر تنےجا کا کہنا ہے کہ نئی دہلی خطے میں کسی تصادم کا مشاہدہ نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے پیغامات ماضی میں بھی دیے گئے ہیں اور اس دورے کے دوران بھی دیے جائیں گے۔
دفاعی خریداری اور غیرجانبداری کی پالیسی
اگرچہ بھارت اسرائیلی فوجی سازوسامان میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن تنےجا کے مطابق نئی دہلی بین الاقوامی امور میں غیرجانبداری کی اپنی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی رسمی اتحاد میں شامل ہونے سے ہچکچاہٹ کا اظہار کرے گی۔
نیتن یاہو کا بھارت کو “محور” کا حصہ قرار دینا
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حالیہ کابینہ اجلاس میں بھارت کو ہم خیال ممالک کے مستقبل کے “محور” کا حصہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑے نتائج پیدا کر سکتا ہے اور ہماری مضبوطی اور مستقبل کو یقینی بنا سکتا ہے۔
دونوں رہنما تقریباً نو سال بعد بھی اقتدار میں ہیں اور ایک دوسرے کو دوست قرار دیتے ہیں۔ اس دورے میں علاقائی امور پر بھی بات چیت ہونے کی توقع ہے۔
