میلبورن: آسٹریلیا کے تجربہ کار اسپنر نیتھن لائن کا ٹیسٹ ٹیم میں کردار اب پہلے جیسا یقینی نہیں رہا۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک آسٹریلوی ٹیم کا لازمی حصہ رہنے والے اس کھلاڑی کی جگہ اب سلیکٹرز کی ترجیحات میں تبدیلی کے باعث داؤ پر لگ گئی ہے۔
جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ سیریز میں تیز گیند بازوں کے لیے سازگار حالات کے پیش نظر سلیکٹرز مکمل پیس اٹیک پر غور کر سکتے ہیں، جس سے لائن کا مستقبل غیر یقینی ہے۔
بنگلہ دیش سیریز میں محدود کردار
گزشتہ ایشز سیریز کے آخری دو ٹیسٹ انجری کے باعث نہ کھیلنے والے لائن کو بنگلہ دیش سیریز کے لیے واپس بلایا گیا تھا۔ ڈارون میں کھیلے گئے پہلے میچ میں وہ مچل اسٹارک، پیٹ کمنز اور جوش ہیزل ووڈ پر مشتمل طاقتور پیس اٹیک کے معاون کے طور پر شامل ہوئے۔
تاہم پہلے ٹیسٹ میں 125 رنز دے کر صرف ایک وکٹ حاصل کرنے اور بنگلہ دیشی اسپن آل راؤنڈر مہدی حسن میراز سے کم متاثر کن کارکردگی کے بعد دوسرے میچ میں ان کی جگہ یقینی نہیں تھی۔
کپتان پیٹ کمنز نے انکشاف کیا کہ میکے میں دوسرے ٹیسٹ کے لیے اسکاٹ بولینڈ اور مکمل پیس اٹیک پر ابتدائی طور پر غور کیا گیا تھا، لیکن پچ کی حالت نے لائن کے حق میں فیصلہ کیا۔
محدود مواقع میں عمدہ کارکردگی
لائن نے بنگلہ دیش کی دوسری اننگز میں 25 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جن میں دو ٹیل اینڈ بلے باز شامل تھے، لیکن یہ کارکردگی محض ایک مختصر کردار ثابت ہوئی۔
بنگلہ دیش پہلی اننگز میں صرف 64 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور دوسری اننگز میں 95 رنز پر سمٹ گئی، جس کے باعث لائن کی خدمات کی زیادہ ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
وکٹ کیپر ایلکس کیری نے کہا، “میرے خیال میں تیز گیند باز اپنا کام کر رہے تھے اور اس ٹیسٹ میں ہم نے نیتھن سے کم اوورز کروائے، شاید ایسی وکٹ پر جو باؤنس اور اسپن کے لیے کچھ حد تک موزوں تھی۔”
انہوں نے مزید کہا، “نیتھن ایک اعلیٰ درجے کے بولر ہیں، کئی سالوں سے ہیں۔”
عمر اور مسابقت کا چیلنج
نومبر میں 39 سال کے ہونے والے لائن کو یقین ہے کہ وہ اب بھی ٹیم میں جگہ کے حقدار ہیں اور 143 ٹیسٹ میں 571 وکٹیں لینے والے اس کھلاڑی کی مہارت اور چالاکی میں کوئی کمی نہیں آئی۔
ہیمسٹرنگ انجری نے لائن کی ایشز مہم متاثر کی، لیکن وہ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ان کا ورک لوڈ احتیاط سے سنبھالا جائے یا آسٹریلیا کسی ماہر اسپنر کے بغیر کھیل سکتا ہے۔
ماضی میں ڈراپ ہونے پر شدید ردعمل
ایشز کے دوران گابا ٹیسٹ کے لیے ڈراپ کیے جانے پر، جو 13 سال میں پہلا موقع تھا جب وہ ہوم ٹیسٹ سے باہر ہوئے، لائن نے ٹی وی انٹرویو میں اپنی حالت “انتہائی غصے” سے تعبیر کی تھی۔
انہوں نے کہا تھا، “میں پہلا کھلاڑی نہیں ہوں جو ٹیسٹ میچ نہیں کھیل سکا اور نہ آخری ہوں گا۔ لیکن میں واضح طور پر بہت مایوس ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں کیا کردار ادا کر سکتا ہوں، خاص طور پر ایسے مقام پر۔”
جنوبی افریقہ کے دورے پر مشکل فیصلے
اکتوبر میں جنوبی افریقہ کے دورے کے لیے مزید مشکل گفتگو کا امکان ہے، جہاں تیز گیند بازی کا غلبہ متوقع ہے اور ایشز میں 20 وکٹیں لینے والے اسکاٹ بولینڈ ایک اور موقع کے منتظر ہیں۔
آل راؤنڈرز کیمرون گرین اور بیو ویبسٹر کے ساتھ ساتھ ٹریوس ہیڈ کی پارٹ ٹائم اسپن بھی ٹیم کو اضافی آپشنز فراہم کرتی ہے۔
کیری نے کہا، “آپ آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ نیتھن ہر ٹیسٹ میچ کھیل سکتے ہیں، اگر حالات موافق ہوں۔ لیکن میرے خیال میں سلیکٹرز کے لیے مختلف پچوں پر لچکدار رہنا ہمارے لیے بہترین آپشنز فراہم کرتا ہے۔”
