اسلام آباد (ڈیلی پاکستان): سینئر پاکستانی اداکار نعمان اعجاز نے انکشاف کیا ہے کہ 2024 میں انہیں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور سورہ رحمٰن کی تلاوت نے ان کی صحت یابی میں اہم کردار ادا کیا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں تجربہ کار اداکار نے کینسر کے خلاف اپنی جنگ کے بارے میں کھل کر بات کی اور تشخیص کے بعد کے مشکل دور کی تفصیلات شیئر کیں۔
کان کے قریب کینسر کی تشخیص
نعمان اعجاز نے بتایا کہ 2024 میں ان کے کان کے قریب کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ تشخیص ملنے والے دن کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے نماز کے دوران آسمان کی طرف دیکھا اور اللہ سے کہا کہ انہوں نے کبھی کسی کا حق نہیں مارا اور نہ ہی کسی پر ظلم کیا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ لوگوں کو دنیا میں کسی مقصد کے لیے بھیجتا ہے اور دعا کی کہ اگر ان کی مزید ضرورت نہیں ہے تو انہیں فوراً واپس بلا لیا جائے، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اپنے خاندان کو تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتے۔
کیموتھراپی سے بچنے کی دعا
نعمان اعجاز نے بتایا کہ انہوں نے یہ بھی دعا کی کہ وہ بار بار ہسپتال کے چکر نہ لگائیں اور کیموتھراپی جیسے تکلیف دہ طریقہ کار سے نہ گزریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر رات بہت زیادہ پڑھتے تھے اور اس امید کے ساتھ سوتے تھے کہ اگلی صبح آنکھ نہ کھلے۔
اداکار نے بتایا کہ جب ان کے کینسر کی خبر پھیلی تو ایک قریبی دوست نے انہیں سورہ رحمٰن پڑھنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس دن سے اب تک مسلسل یہ سورہ پڑھ رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اس نے انہیں بچانے میں بڑا کردار ادا کیا۔
کامیاب آپریشن اور غیر متوقع خبر
نعمان اعجاز نے مزید بتایا کہ بعد ازاں ان کا کامیاب آپریشن ہوا اور ٹیومر نکال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا پہلا کیموتھراپی سیشن 23 جولائی 2024 کو شروع ہونا تھا، لیکن ڈاکٹروں نے 22 جولائی کو فون کر کے بتایا کہ انہیں کچھ نہیں ملا، یعنی کیموتھراپی کی ضرورت ہی نہیں رہی۔
یاد رہے کہ نعمان اعجاز پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے سب سے کامیاب اور معتبر اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے کئی دہائیوں پر محیط کیریئر میں لاتعداد یادگار کردار ادا کیے ہیں۔
