اسلام آباد (ڈیفنس ڈیسک) — ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کو تہران کا دورہ کریں گے جہاں وہ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔
ترجمان کے مطابق اس دورے کا مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کا تسلسل ہے۔
دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی پر بات چیت متوقع
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ دورے کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال پیچیدہ ہے اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
قبل ازیں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بھی اس دورے کی تصدیق کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور دفاعی و سکیورٹی تعاون سمیت مختلف امور پر گفتگو ہوگی۔
ایرانی صدر کا خطے کی صورتحال پر اظہار خیال
ادھر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران اب بھی حالت جنگ میں ہے اور اسے مکمل اقتصادی، عسکری اور سکیورٹی جنگ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے سخت امریکی پابندیوں کے باوجود ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔
صدر پیزشکیان نے کہا کہ امریکہ نے ایران کو وینزویلا میں تبدیل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن ایران کی تباہی چاہتا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران مضبوط اتحاد کے ذریعے دنیا کو حیران کرنے والی طاقت بن کر ابھرا ہے۔
پاک ایران تعلقات میں اہم پیش رفت
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی عسکری و سفارتی روابط کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک نے سرحدی سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں مزید اضافہ ہوگا اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔
