برمنگھم: پاکستان کی بیٹنگ لائن ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ پر تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے پہلے ہی دن بکھر گئی، جہاں مہمان ٹیم صرف 133 رنز پر ڈھیر ہوگئی جبکہ انگلینڈ نے دن کے اختتام پر چار وکٹوں کے نقصان پر 156 رنز بنا کر 23 رنز کی برتری حاصل کر لی۔
ٹاس اور ٹیم تبدیلیاں
انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جو فوری طور پر سودمند ثابت ہوا۔ پاکستان نے ہیڈنگلے اور لارڈز ٹیسٹ کے مقابلے میں چار تبدیلیاں کیں۔ وکٹ کیپر محمد رضوان، اوپنر امام الحق، تیز گیند باز خرم شہزاد اور اسپنر علی عثمان کو باہر کر دیا گیا۔ سائم ایوب کی ٹیسٹ ٹیم میں واپسی ہوئی جبکہ وکٹ کیپر غازی غوری، آل راؤنڈر عمران رندھاوا اور تیز گیند باز رضاؤاللہ نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔
پاکستان کی اننگز کا تباہ کن آغاز
پاکستان کی اننگز کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا۔ جنوری 2025 کے بعد ٹیسٹ ٹیم میں واپس آنے والے سائم ایوب دس گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد صفر پر آؤٹ ہوگئے۔ ان کی آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کی وکٹیں گرنے کا سلسلہ تیز ہو گیا اور لنچ سے قبل ہی سات وکٹیں گر گئیں۔
پاکستانی بلے بازوں کو حالات میں بیٹنگ کرنا مشکل لگا اور وہ شراکت داریاں قائم کرنے میں ناکام رہے۔ سعود شکیل کو اس وقت بڑا سہارا ملا جب بین ڈکٹ نے گس اٹکنسن کی گیند پر سلپ میں ان کا کیچ چھوڑ دیا، اس وقت وہ سات رنز پر تھے۔
سعود شکیل کی واحد مزاحمت
سعود شکیل نے اس چھوٹے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور پاکستان کے سب سے کامیاب بلے باز ثابت ہوئے۔ چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے انہوں نے 47 گیندوں پر نو چوکوں کی مدد سے 43 رنز بنائے اور ایک طرف وکٹیں گرتی رہیں تو دوسری طرف انہوں نے مزاحمت جاری رکھی۔
پاکستان کے پہلے سات بلے باز دوہری رنز تک بھی نہ پہنچ سکے۔ نویں نمبر پر ڈیبیو کرنے والے رضاؤاللہ نے 11 رنز جبکہ دسویں نمبر پر محمد عباس نے قیمتی 21 رنز کا اضافہ کیا۔
انگلینڈ کے گیند بازوں کا راج
پاکستان کی پوری ٹیم لنچ کے بعد 33.5 اوورز میں 133 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ یہ انگلینڈ کے دورے کی پانچ اننگز میں تیسری بار تھا کہ پاکستان 40 اوورز بھی نہ کھیل سکی۔
انگلینڈ کے گیند بازوں نے کامیابی کا سہرا آپس میں تقسیم کیا۔ جوش ٹنگ نے شاندار گیند بازی کرتے ہوئے 42 رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ اولی رابنسن اور جوفرا آرچر نے تین تین وکٹیں لیں۔
رابنسن نے اس اننگز کے دوران اہم سنگ میل عبور کیا جب انہوں نے سائم ایوب کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر کے اپنی 100ویں ٹیسٹ وکٹ حاصل کی۔ 32 سالہ سسیکس کے تیز گیند باز نے یہ کامیابی اپنے 24ویں ٹیسٹ میں حاصل کی۔
انگلینڈ کی جوابی اننگز
انگلینڈ نے اپنی اننگز کا آغاز مثبت انداز میں کیا۔ اوپنر ایملیو گے نے 60 رنز کی پرسکون اننگز کھیل کر میزبان ٹیم کو پاکستان کے معمولی مجموعے سے آگے بڑھانے میں مدد دی۔
پاکستان کے ڈیبیو تیز گیند باز رضاؤاللہ نے انگلینڈ کے دو وکٹیں حاصل کر کے مہمانوں کو کچھ امید دلائی، تاہم میزبان ٹیم دن کے اختتام تک کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔
انگلینڈ نے 39 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 156 رنز بنا کر پاکستان پر 23 رنز کی برتری حاصل کر لی ہے، جس سے مہمان ٹیم کو میزبانوں کی فیصلہ کن برتری روکنے کے لیے بڑا چیلنج درپیش ہے۔
دن کا پورا کریڈٹ انگلینڈ کو جاتا ہے، جس کے گیند بازوں نے پاکستان کی کمزور بیٹنگ کو بے نقاب کیا اور ٹاپ آرڈر نے میزبان ٹیم کو پہلے دن کے اختتام پر مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔
