اسلام آباد: پاکستان اور ایران کے درمیان امریکہ ایران تنازعے کے حل اور قیام امن کے لیے جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ایرانی صدر کے ساتھ انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز ملاقات ہوئی۔
وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ملاقات میں امریکہ ایران تنازعے، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور آگے بڑھنے کے راستے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس کے علاوہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بحالی کے لیے دونوں اطراف سے درکار اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی جس سے تنازعے کے جامع حل کی راہ ہموار ہوگی۔
ایرانی صدر کا اپنے موقف کا اظہار
محسن نقوی کے مطابق ایرانی صدر نے اپنی حکومت کا موقف اور تحفظات واضح انداز میں پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ زیر بحث امور پر انتہائی تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا اور ملاقات انتہائی مثبت انداز میں اختتام پذیر ہوئی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ رفتار خطے میں مزید پیش رفت اور دیرپا امن کے لیے راہ ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
تہران میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایران کا ایک روزہ دورہ مکمل کر لیا ہے۔ یہ دورہ اسلام آباد کی ان سفارتی کوششوں کا حصہ تھا جن کا مقصد امریکہ ایران تنازعے میں تعطل کو ختم کرنا اور دیرپا امن و علاقائی استحکام کے لیے پیش قدمی کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں بتایا گیا کہ تہران میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تنازعے کے خاتمے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
ایرانی قیادت سے ملاقاتیں
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، سپریم لیڈر کے نمائندے برائے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل محسن رضائی، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔
بیان کے مطابق ملاقاتوں میں علاقائی امن اور تنازعات کے مذاکراتی حل کے ممکنہ طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی قیادت نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازعے کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر گفتگو
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ پاکستان مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور جاری تنازعے کے پرامن حل کے لیے کوششوں کی حمایت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ مذاکرات اور بقایا مسائل کے پرامن حل کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان دورہ
یہ دورہ اس وقت ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور تہران نے امریکی پابندیوں کے جواب میں فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے جو اس کی پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی ثالثی کی کوششیں خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان کا غیر جانبدارانہ کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
