پیرس: جمعرات کی شام اچانک آنے والے شدید طوفانی بارشوں نے پیرس اور آس پاس کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں درخت اکھڑ گئے، سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں اور گرج چمک کے ساتھ تیز ہواؤں نے شہریوں کو حیران کر دیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کے دوران ہوا کی رفتار 130 سے 142 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات نے جمعرات کی سہ پہر سے رات تک پورے علاقے کو اورنج الرٹ پر رکھا ہوا تھا، لیکن طوفان کا سب سے زیادہ اثر وال-دے-مارنے کے علاقے پر پڑا۔ پیرس فائر بریگیڈ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طوفان کے دوران انہیں 60 میں سے 37 کالیں صرف اسی علاقے سے موصول ہوئیں۔
نقصانات اور امدادی کارروائیاں
فائر بریگیڈ کے ترجمان نے صورتحال کو “تشویشناک نہیں” قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر نقصانات مادی نوعیت کے ہیں۔ تاہم، شیویلی-لارو کے علاقے میں درخت کی شاخ گرنے سے ایک شخص کا بازو فریکچر ہو گیا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طوفان کی شدت سے درخت سیدھے سڑکوں پر گرے، کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور سڑکیں ندیوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ شوزی-لے-رآ، وتری اور میزون-الفورٹ سے ایسی متعدد ویڈیوز سامنے آئیں۔
صدارتی مباحثہ بھی متاثر
طوفان کا اثر رولینڈ گیروس میں جاری صدارتی انتخابات کے پہلے مباحثے پر بھی پڑا، جہاں شدید بارش اور ہواؤں نے پروگرام کے انعقاد میں خلل ڈالا۔
مشرقی علاقوں کی جانب پیش قدمی
محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کا سلسلہ رات کے وقت برگنڈی اور فرانش-کومتے کی جانب بڑھا، جہاں بیزانسون اور دیجون جیسے شہروں میں اولوں کی بارش اور گرج چمک کی ویڈیوز سامنے آئیں۔
جمعہ کی صبح یہ طوفان لیون پہنچا، جہاں آسمانی بجلی گرنے کی تصاویر آن لائن پوسٹ کی گئیں۔
سات محکمے اب بھی اورنج الرٹ پر
اگرچہ جمعہ کی صبح صورتحال کچھ بہتر ہوئی، لیکن ملک کے مشرقی حصوں میں خطرات بدستور موجود ہیں۔ محکمہ موسمیات نے صبح 6 بجے جاری کردہ اپنے بلیٹن میں سات محکموں کو اورنج الرٹ پر رکھا ہے:
- با-رین
- او-رین
- ٹیریٹوائر ڈی بیلفورٹ
- ڈوبس
- جورا
- این
- رون
محکمہ موسمیات کے مطابق “سب سے زیادہ فعال طوفانوں کا محور اگلے چند گھنٹوں میں بتدریج مشرق کی جانب منتقل ہو گا، جہاں طوفان شدید رہ سکتے ہیں، بعض اوقات اولے، تیز ہوائیں (80 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ، مقامی طور پر اس سے بھی زیادہ) اور شدید بارش (30 ملی میٹر فی گھنٹہ) کا امکان ہے۔”
