geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
March 22, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    • A new geopolitical chessboardچین کے عروج سے بدلتی عالمی طاقت کی کشمکش
    صحت و تندرستی
    • Long Covid's Psychological Theory Sparks Patient Outcryطویل کووڈ: علاج کی تلاش میں نفسیاتی نظریہ متنازعہ بن گیا
    • The '777 Rule' for Couples: Viral Trend or Relationship Savior?جوڑوں کے لیے ‘777 اصول’: کیا یہ محض ایک وائرل ٹرینڈ ہے یا مفصل مشورہ؟
    • Deep Sleep May Shield Brain from Alzheimer's, Study Findsگہری نیند: الزائمر کے خلاف دماغی ڈھال کا نیا سائنسی انکشاف
    دلچسپ اور عجیب
    • Russia's S-500 Prometheus: The Next-Gen Air Defense Systemروسیہ کا ایس-500 پرومیٹھیس: ہوا سے ہوا میں مار کرنے والا نیا جنگی نظام
    • The Night Belongs to Us: Women's Complex Relationship with Darknessرات اور عورت: آزادی کی خواہش اور خوف کے درمیان محصور وجود
    • Smart Glasses Raise Privacy Concerns: How to Protect Yourselfدیکھنے میں عام مگر خطرناک: اسمارٹ عینکیں اور آپ کی رازداری کا بحران
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • AI Pioneer Yann LeCun's Startup AMI Raises $1 Billionیان لی کن کی اے آئی اسٹارٹ اپ اے ایم آئی نے ‘ورلڈ ماڈلز’ کے لیے ایک ارب ڈالرز کی فنڈنگ حاصل کر لی
    • Smart Glasses Raise Privacy Concerns: How to Protect Yourselfدیکھنے میں عام مگر خطرناک: اسمارٹ عینکیں اور آپ کی رازداری کا بحران
    • Pakistan to Witness 'Blood Moon' in Total Lunar Eclipse Todayآج پاکستان کے آسمان پر ‘خون کے چاند’ کا نظارہ، مکمل چاند گرہن واقع ہوگا
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

پیرس دہشت گردانہ حملے: ’میں داعش کا سپاہی ہوں،‘ ملزم کا بیان

September 9, 2021September 9, 2021 0 1 min read
Paris Police
Share this:

Paris Police

پیرس (اصل میڈیا ڈیسک) پیرس میں دو ہزار پندرہ کے دہشت گردانہ حملوں کے زندہ بچ جانے والے واحد حملہ آور صالح عبدالسلام نے دوران سماعت عدالت میں ایک بیان دیا۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ ’داعش کا ایک سپاہی‘ ہے۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں نومبر 2015ء میں بیک وقت کئی مقامات پر کیے گئے مربوط دہشت گردانہ حملوں میں 130 افراد مارے گئے تھے اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ ان حملوں کی ذمے داری دہشت گرد تنظیم ‘اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے قبول کر لی تھی۔

پیرس سے آمدہ رپورٹوں کے مطابق مراکشی نژاد فرانسیسی شہری صالح عبدالسلام نے اپنے ‘داعش کا سپاہی‘ ہونے سے متعلق بیان تقریباﹰ چھ برس قبل 13 نومبر کے روز کیے گئے دہشت گردانہ حملوں سے متعلق مقدمے کی کارروائی کے آغاز پر دیا۔

پیرس کی ایک عدالت میں اس مقدمے کی کارروائی کا آغاز انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ہوا۔ ملزم صالح عبدالسلام کو جب عدالت میں لایا گیا، تو وہ سیاہ لباس پہنے ہوئے تھا اور اس کا چہرہ بھی ایک سیاہ ماسک سے ڈھکا ہوا تھا۔

اس مقدمے میں عدالتی کارروائی مجموعی طور پر 20 ایسے جہادیوں کے خلاف کی جا رہی ہے، جن پر ان حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ان میں سے اس وقت 31 سالہ صالح عبدالسلام اس خونریزی کے مرتکب حملہ آوروں میں سے زندہ بچ جانے والا واحد ملزم سمجھا جاتا ہے۔

ڈیڑھ درجن سے زائد ان جہادیوں نے یہ حملے چھ شراب خانوں اور ریستورانوں، باٹاکلاں کنسرٹ ہال اور ایک سپورٹس اسٹیڈیم میں کیے تھے۔ یہ حملے اتنے ہلاکت خیز تھے کہ انہیں بہت سے ماہرین نے ‘یورپ کا نائن الیون‘ قرار دیا تھا اور ان کی وجہ سے فرانس کی اپنے ہاں سلامتی انتظامات کے حوالے سے خود اعتمادی کو بھی شدید دھچکا لگا تھا۔

پیرس حملوں سے متعلق اس مقدمے کی سماعت شہر کے وسطی علاقے میں Palais de Justice یا قصرِ عدل نامی عدالت میں ہو رہی ہے، جس کے باہر ان حملوں میں زندہ بچ جانے والے بہت سے افراد کے علاوہ ہلاک شدگان کے بہت سے رشتے دار بھی جمع تھے۔

ان فرانسیسی شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ قصرِ عدل کے باہر اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ ملزم صالح عبدالسلام کا عدالت میں دیا جانے والا بیان سن سکیں اور یہ بات بہتر طور پر سمجھ سکیں کہ جو کچھ بھی ہوا، وہ کیوں ہوا؟

یہ عدالتی کارروائی تقریباﹰ نو ماہ تک جاری رہے گی، جس میں تقریباﹰ 1800 مدعیان کی طرف سے 300 سے زائد وکلاء حصہ لیں گے۔ ملکی وزیر انصاف ایرک دُوپاں موریتی نے اسے فرانسیسی تاریخ کی ‘بے نظیر عدالتی میراتھن‘ قرار دیا ہے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے ان منظم سلسلہ وار حملوں میں پیرس میں اور اس کے گرد و نواح میں سات مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد دو سو ہے، جن میں سو کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

اس مقدمے میں جن 20 ملزمان کو اپنے خلاف الزامات کا دفاع کرنا ہے، ان میں سے 11 پہلے ہی جیل میں ہیں اور اپنے خلاف کارروائی کے منتظر تھے۔ چھ نامزد ملزمان کے خلاف یہ عدالتی کارروائی ان کی غیر حاضری میں مکمل کی جائے گی۔ ان میں سے زیادہ تر مارے گئے تھے۔

مقدمے کے اکثر ملزمان کو ان کے جرائم ثابت ہو جانے پر عمر قید کی سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔ باقی ماندہ ملزمان کے خلاف الزامات یہ ہیں کہ انہوں نے حملہ آوروں کو ہتھیار یا گاڑیاں مہیا کیں یا پھر ان حملوں کے لیے دیگر تیاریوں میں مدد کی۔

چھ سال پہلے پیرس کے ان دہشت گردانہ حملوں کی ذمے داری داعش نے قبول کر لی تھی۔ تب یہ تنظیم شام اور عراق کے وسیع تر علاقوں پر قابض تھی اور وہاں اس کے خلاف کارروائیوں میں دیگر مغربی ممالک کی طرح فرانس بھی شامل تھا۔ اس پر داعش نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ فرانس پر مسلح حملے کریں۔

ہسپانوی شہر بارسلونا کے علاقےلاس رامباس میں کیے گئے حملے میں کم از کم تیرہ ہلاک ہوئے ہیں۔ اس واقعے میں دہشت گرد نے اپنی وین کو پیدل چلنے والوں پر چڑھا دیا تھا۔

اس مقدمے میں عدالتی فیصلہ اگلے برس مئی کے اواخر میں متوقع ہے۔ سماعت کے لیے کمرہ عدالت میں خاص طور پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ کارروائی کے دوران عدالت میں موجود ملزمان کو شیشے کی ایک موٹی بلٹ پروف دیوار کے پیچھے بٹھایا گیا۔

عدالتی کارروائی میں حصہ لینے والے وکلاء اور دیگر افراد کی کئی مراحل میں سخت سکیورٹی چیکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے، جس کے لیے خاص طور پر ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار متعین کیے گئے ہیں۔

اس سسلے میں فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ دارمانیں نے فرانس انٹر نامی نشریاتی ادارے کو بتایا، ”فرانس میں دہشت گردی کا خطرہ کافی زیادہ ہے، خاص طور پر ایسے ٹرائلز کے موقع پر۔‘‘

Share this:
Rajat Bedi
Previous Post معروف بھارتی اداکار کی گاڑی سے ٹکرا کر ایک شخص ہلاک
Next Post آرکٹک زون میں جاری مشقوں کے دوران روسی وزیر کا انتقال
Giovanni Zenichev

Related Posts

US-Israel Strikes Escalate as Iran Retaliates, Oil Prices Fluctuate

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ چوتھے ہفتے میں داخل

March 20, 2026
Pakistan Accuses India of Water Weaponization at UN Forum

اقوام متحدہ میں پاکستان نے بے بنیاد دہشت گردی کے الزامات پر بھارت کی آبی وسائل کو ہتھیار بنانے کی پالیسی کی سخت مذمت کی

March 20, 2026
Oil Prices Retreat as Hawkish Central Banks Rattle Markets

ایران جنگ کے تناؤ میں تیل کی قیمتیں گر گئیں، بانڈ مارکیٹ میں ہلچل

March 20, 2026
Pakistan's Economy at High Risk from Hormuz Strait Disruption

ہرمز کے آبنائے میں خلل پاکستان کی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے، مطالعہ انتباہ

March 20, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.