نیس کے میئر کرسچن ایسٹروسی کے گھر کے سامنے سور کے سر اور یہودی مخالف مواد پر مشتمل ایک اشتعال انگیز پوسٹر رکھے جانے کے واقعے کے بعد فرانسیسی عدالت نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
عدالتی کارروائی اور الزامات
نیس کے پراسیکیوٹر ڈیمین مارٹینیلی نے بتایا کہ یہ مقدمہ دو بنیادی الزامات پر کھولا گیا ہے: عوامی عہدیدار کے خلاف دھمکیاں اور توہین، نیز مذہب کی بنیاد پر نفرت اور تشدد کی ترغیب۔ یہ واقعہ ہفتے کے روز سامنے آیا جب میئر نے خود سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کی تصویر شیئر کی۔
میئر کا رد عمل اور سیاسی حمایت
میئر ایسٹروسی، جو اس وقت بلدیاتی انتخابات میں دوبارہ امیدوار ہیں، نے اس واقعے کو “مکروہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “میں جو کچھ ہمیشہ اپنے شہر میں لڑتا رہا ہوں، آج وہی میرے اپنے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔”
ان کے انتخابی مخالف اور یو ڈی آر کے صدر ایرک سیوٹی نے بھی فوری طور پر یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل کو جمہوریہ کی بنیادی اقدار پر حملہ قرار دیا۔
پس منظر اور سیاسی موقف
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب میئر ایسٹروسی گذشتہ کچھ عرصے سے اسرائیلی حکومت کے حامی موقف کی وجہ سے تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں حماس کے حملوں کے بعد انہوں نے نیس کی ٹاؤن ہال پر اسرائیلی پرچم لہرائے تھے، جنہیں بعد میں انتظامی عدالت کے فیصلے پر اتارنا پڑا۔
اس واقعے نے فرانس میں بلدیاتی انتخابات سے قبل سیاسی فضا کو مزید گرم کر دیا ہے اور مذہبی منافرت کے خلاف قانونی اقدامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
