اسلام آباد: پمز واقعے کی ابتدائی انکوائری رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی گئی ہے، جس میں تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کی وجوہات اور ذمہ داران کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی نے تیار کی اور جمعہ کی رات دیر سے وزیراعظم کے مشیر توقیر شاہ کے دفتر میں جمع کرائی گئی۔ کمیٹی نے رپورٹ کے اہم نکات اور سفارشات پر متعلقہ حکام کو بریفنگ بھی دی۔
رپورٹ پر تمام ارکان کے دستخط، منظرعام پر لانے کا اختیار وزیراعظم کے پاس
رپورٹ پر انکوائری کمیٹی کے تمام ارکان کے دستخط موجود ہیں، جبکہ اسے منظرعام پر لانے کا اختیار وزیراعظم کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری میں واقعے کے اسباب کا جائزہ لیا گیا اور امدادی کارروائیوں کے دوران ریسکیو ٹیموں کو درپیش مشکلات کو بھی اجاگر کیا گیا۔
غیر حاضر عملے کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش
کمیٹی نے واقعے کے وقت غیر حاضر رہنے والے پمز کے متعلقہ عملے کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی تجاویز شامل ہیں۔
رپورٹ میں پمز انتظامیہ کے حکام اور ڈاکٹروں کے انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں، جبکہ ہنگامی ردعمل میں حصہ لینے والے فائر بریگیڈ اور ریسکیو اہلکاروں کے بیانات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔
علاج معالجے کے انتظامات پر تشویش کا اظہار
انکوائری کمیٹی نے پمز میں علاج معالجے کے انتظامات اور ناکافی سہولیات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ دستیاب انتظامات بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتے۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی نے وزیراعظم پر زور دیا ہے کہ ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ وزیراعظم نے انکوائری کے نتائج کی روشنی میں کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی جلد شروع ہونے کا امکان ہے۔
انکوائری کمیٹی کے ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ رپورٹ باقاعدہ طور پر وزیراعظم آفس کو ارسال کر دی گئی ہے۔
