کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت کے نواحی علاقے سورنج میں جمعرات کو ایک ہولناک حادثے میں میتھین گیس کے دھماکے کے بعد کوئلے کی کان منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 34 مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق، دھماکے کے وقت 42 مزدور کان کے اندر کام کر رہے تھے، اور متعدد مزدور اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔
اب تک 34 لاشیں نکالی جا چکی ہیں
ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ تاحال ملبے سے 34 مزدوروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ دیگر لاپتہ مزدوروں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ کان کا بڑا حصہ بیٹھ گیا، جس سے امدادی کارروائیوں میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ تمام تر مشکلات کے باوجود ریسکیو ٹیمیں متبادل راستوں سے ملبہ ہٹانے اور پھنسے ہوئے افراد تک پہنچنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کی فوری انکوائری کا حکم
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس المناک حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ کان کنی سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے حادثے کی شفاف انکوائری کرانے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر کسی بھی سطح پر غفلت ثابت ہوئی تو قصورواروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے تمام کوئلے کی کانوں میں حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کا بھی حکم دیا۔
امدادی کارروائیاں اور معاوضوں کا اعلان
صوبائی وزیر برائے کان کنی و معدنیات شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں انتہائی مشکل حالات میں بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والے مزدوروں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہر جاں بحق مزدور کے ورثاء کو 5 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 3 لاکھ روپے فی کس معاوضہ دیا جائے گا۔
کوئلے کی کان کے مالک نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکہ میتھین گیس کے جمع ہونے کے باعث ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ کان میں پھنسے تمام مزدوروں کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے ہے، جو روزگار کی غرض سے کوئٹہ آئے ہوئے تے۔
حادثے کے اسباب پر تحقیقات کا حکم
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ اس سانحے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔ محکمہ کان کنی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صوبے بھر کی کانوں میں حفاظتی اقدامات کا از سر نو جائزہ لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کان کنوں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہو۔
