مکہ: سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے پیش کیے گئے منصوبے کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن کو غزہ کے لوگوں کو ان کی سرزمین پر برقرار رکھنے کے لیے مدد فراہم کرنی چاہیے۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ امریکی صدر کا منصوبہ قابل قبول نہیں اور یہ کسی بھی صورت فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے غزہ کے لیے ایک نئے مارشل پلان کی بھی تجویز دی، جو امریکی قیادت میں ہو اور خطے کی تعمیر نو پر مرکوز ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک جامع عرب امن منصوبہ موجود ہے جو خطے میں جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے بہترین متبادل فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ خطے میں استحکام لانے کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
شہزادہ ترکی نے مزید کہا کہ امریکا نے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی تعمیر نو کے لیے مارشل پلان منظور کیا تھا، جس کے تحت اقتصادی امداد فراہم کی گئی تھی۔ اسی طرز پر غزہ کے لیے بھی ایک منصوبہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ وہاں کے لوگ امن و سکون کے ساتھ اپنی سرزمین پر زندگی گزار سکیں۔
انہوں نے کہا کہ مارشل پلان کے تحت یورپ میں ترقی ممکن ہوئی اور وہاں کے لوگ اپنی سرزمین پر ہی مقیم رہے۔ شہزادہ ترکی الفیصل نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے لوگوں کو ان کی زمین پر برقرار رکھنے کے لیے عالمی برادری کو عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
