چینی کمپنی مون شاٹ نے نئے مصنوعی ذہانت ماڈل Kimi K1.5 کو متعارف کروا دیا ہے، جو کہ اوپن اے آئی کے GPT-4o اور دیگر موجودہ ماڈلز کو پیچھے چھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ماڈل بغیر کسی کوٹہ کی پابندی کے مفت دستیاب ہے اور اپنی کارکردگی میں شاندار نتائج دکھا رہا ہے۔
Kimi K1.5 کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ حقیقی وقت میں انٹرنیٹ سے معلومات تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کہ اسے 100 سے زائد منتخب ویب سائٹس سے معلومات حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی ملٹی ماڈل صلاحیتیں تصاویر اور دستاویزات کی پروسیسنگ میں بھی مدد گار ہیں۔
ابتدائی طور پر، Kimi AI صرف چینی زبان میں دستیاب ہے، تاہم یہ دیگر زبانوں میں بھی بات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جیسا کہ فرانسیسی اور انگریزی۔ Kimi نے موجودہ بینچ مارکس میں اپنے حریفوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، اور یہ ماڈل بالکل مفت دستیاب ہے، جو کہ صارفین کے لئے ایک بڑا فائدہ ہے کیونکہ اس میں کسی قسم کی کوٹہ کی پابندی نہیں ہے۔
Kimi کی اہم خصوصیات میں شامل ہے تصاویر کو کمپیوٹر کوڈ میں تبدیل کرنا، جغرافیائی مقامات کی شناخت کرنا، اور دو مشابہ تصاویر میں فرق کرنا۔ یہ خصوصیات اسے جدید ترین مصنوعی ذہانت ماڈلز کی فہرست میں ممتاز بناتی ہیں۔
Kimi کی دستیابی نہ صرف ویب انٹرفیس بلکہ موبائل ایپلیکیشن، ڈیسک ٹاپ سافٹ ویئر اور انٹرنیٹ براؤزر ایکسٹینشن میں بھی ہے، جو کہ صارفین کے لیے استعمال میں آسانی پیدا کرتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں Kimi K1.5 کا یہ نیا قدم اس بات کا ثبوت ہے کہ چین اس میدان میں اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے۔
