ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں دو بڑے میوزک فیسٹیولز کو منسوخ کر دیا گیا ہے، جن میں کولمبین سپر اسٹار شاکرہ اور امریکی گلوکارہ کرسٹینا ایگیلیرا کو پرفارم کرنا تھا۔ منتظمین نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور سیکیورٹی صورتحال کو اس فیصلے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
یہ اعلان منگل 18 اگست کو اس وقت سامنے آیا جب خلیجی ریاست ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے خدشے کے باعث شدید سیکیورٹی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ فروری کے آخر میں ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے بعد سے متحدہ عرب امارات تہران کے ممکنہ حملوں کی زد میں ہے۔
تین ہزار سے زائد میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ بننے کا دعویٰ
متحدہ عرب امارات کے حکام کے مطابق ملک کو اب تک تین ہزار سے زائد میزائلوں اور ڈرونز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگرچہ ان میں سے بیشتر کو فضائی دفاعی نظام نے ناکارہ بنا دیا، لیکن بعض نے اہم تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔
وزارت دفاع نے منگل کو تصدیق کی کہ ایران نے دو بیلسٹک میزائل داغے جن کا ہدف سمندری جہاز رانی تھی، تاہم یہ میزائل سمندر میں جا گرے۔ حالیہ مہینوں میں حملوں کی رفتار میں کمی آئی ہے، لیکن خطرہ بدستور برقرار ہے۔
شاکرہ کا آف لمٹس فیسٹیول 2027 تک ملتوی
شاکرہ کو 21 نومبر کو آف لمٹس فیسٹیول میں پرفارم کرنا تھا، لیکن منتظمین نے ایک بیان میں اس کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے ٹکٹوں کی رقم واپس کرنے کا وعدہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ 2027 میں فیسٹیول کو دوبارہ منعقد کرنے کی امید ہے۔
یہ فیسٹیول اصل میں 4 اپریل کو ہونا تھا، لیکن جنگ کے باعث فضائی ٹریفک اور سیکیورٹی صورتحال متاثر ہونے پر اسے پہلے ملتوی کیا گیا اور اب مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔
کرسٹینا ایگیلیرا کا کنسرٹ بھی التوا کا شکار
کرسٹینا ایگیلیرا کا کنسرٹ 25 ستمبر کو شیڈول تھا، جس کے ٹکٹ ٹکٹ ماسٹر پلیٹ فارم کے ذریعے فروخت کیے جا رہے تھے۔ اماراتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کنسرٹ کو بھی بغیر کسی نئی تاریخ کے منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ایگیلیرا کا یہ شو بھی اصل میں 24 اپریل کو ہونا تھا۔
خلیجی ریاستوں کی معاشی حکمت عملی کو دھچکا
ماہرین کے مطابق ایران کی جوابی کارروائیوں نے ان پیٹرو ڈالر ریاستوں کی اس شبیہہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے جو وہ برسوں سے استحکام اور سیاحت کے مرکز کے طور پر پیش کرتی آئی ہیں۔
- ثقافتی اور تفریحی سرگرمیاں ان معیشتوں کا اہم ستون ہیں
- جنگ کے باعث سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے
- فضائی ٹریفک میں رکاوٹوں نے بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی کو مشکل بنا دیا ہے
- حکام کو بڑے پیمانے پر ایونٹس منسوخ یا ملتوی کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے
یہ منسوخیاں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا اثر اب خطے کی ثقافتی اور معاشی زندگی پر بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
