واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اہم قانونی کامیابی دلاتے ہوئے بذریعہ ڈاک ووٹنگ پر پابندیوں سے متعلق ان کے متنازع صدارتی حکم نامے کو عارضی طور پر نافذ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ قدامت پسند اکثریت پر مشتمل عدالت نے پیر کے روز یہ فیصلہ سنایا، جس سے وسط مدتی انتخابات سے صرف دو ماہ قبل ڈیموکریٹک کیمپ میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔
صدر ٹرمپ طویل عرصے سے بذریعہ ڈاک ووٹنگ کے نظام پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس طریقہ کار کے ذریعے غیر ملکی شہری بھی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں، حالانکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایسے واقعات انتہائی نایاب ہیں۔ ٹرمپ 2020 کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کے خلاف اپنی شکست کی ایک بڑی وجہ بھی اسی طریقہ کار کو قرار دیتے ہیں، جسے وہ آج تک تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔
وفاقی فہرست اور پوسٹل سروس کا کردار
صدر ٹرمپ نے 31 مارچ کو اس حکم نامے پر دستخط کیے تھے۔ امریکی آئین کے تحت انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری روایتی طور پر ریاستوں پر عائد ہوتی ہے، لیکن اس نئے حکم نامے کے تحت امیگریشن اور سوشل سیکیورٹی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے کے اہل افراد کی ایک وفاقی فہرست تیار کریں۔ مزید برآں، پوسٹل سروس کو صرف انہی افراد کو بذریعہ ڈاک بیلٹ جاری کرنے کا پابند بنایا گیا ہے جو اس وفاقی فہرست میں شامل ہوں۔
ڈیموکریٹک پارٹی نے اس اقدام کو انتخابات پر قبضے کی کوشش قرار دیتے ہوئے فوری طور پر عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ ڈیموکریٹک گورنروں والی کئی ریاستیں ایک نچلی وفاقی عدالت سے اس حکم نامے پر عارضی پابندی حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو گئی تھیں۔ تاہم، سپریم کورٹ نے اب اس پابندی کو اٹھا لیا ہے۔
عدالت کا محتاط مؤقف
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کیس کی بنیادی خوبیوں پر کوئی حتمی رائے نہیں دی۔ عدالت نے نو میں سے تین ترقی پسند ججوں کی مخالفت کے باوجود یہ حکم دیا کہ نچلی عدالت کی جانب سے لگائی گئی روک حکومت کے لیے نقصان دہ ہے۔ تاہم، عدالت نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت کی جانب سے اس حکم نامے پر عملدرآمد کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات قانونی طور پر درست ثابت ہوں گے۔
عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ “مستقبل ہی بتائے گا کہ یہ اقدامات کس حد تک آئینی ہیں۔” تینوں ترقی پسند ججوں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ جج کیتنجی براؤن جیکسن نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ یہ فیصلہ “مستقل قانونی نظیروں کی خلاف ورزی کرتا ہے اور آئندہ وسط مدتی انتخابات میں غیر ضروری طور پر افراتفری اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے۔”
ڈیموکریٹک قیادت کا سخت ردعمل
ڈیموکریٹک رہنماؤں نے اس فیصلے کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما چک شومر نے الزام عائد کیا کہ “ڈونلڈ ٹرمپ امریکیوں کے لیے ووٹ ڈالنا مشکل بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ انہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی، غیر قانونی جنگ اور بدعنوانی کا ذمہ دار نہ ٹھہرا سکیں۔”
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ ان کی ریاست اس فیصلے کے خلاف نئی قانونی کارروائی کرے گی۔ انہوں نے لکھا کہ “یہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ الیکشن ریاستوں کے اختیار میں ہیں، ٹرمپ کے نہیں، اور قانون کی حکمرانی کا احترام لازمی ہے۔”
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان لورین بس نے اسے “امریکی انتخابات کی سلامتی کے لیے ایک بڑی کامیابی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صرف امریکی شہری ہی امریکی رہنماؤں کا انتخاب کریں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود صدر ٹرمپ نے حال ہی میں فلوریڈا کی ریپبلکن پرائمری میں بذریعہ ڈاک ووٹ ڈالا تھا، جس سے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی اصل پریشانی ووٹنگ کا طریقہ کار نہیں بلکہ یہ ہے کہ لوگ انہیں ووٹ نہیں دے رہے۔
