نیمز، فرانس: فرانسیسی حکام نے ٹک ٹاک پر مقبولیت رکھنے والی 29 سالہ انفلوئنسر سونیا بیلینا کے قتل کے الزام میں ایک 32 سالہ شخص کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پراسیکیوٹر کے دفتر نے جمعہ کے روز بتایا کہ ملزم کا مجرمانہ ریکارڈ تشدد اور منشیات سے بھرا ہوا ہے۔
سونیا بیلینا کی لاش 12 اگست کو جنوبی فرانس کے علاقے گارڈ کے قصبے سینٹ-گلز میں انگور کے باغات سے ملی تھی۔ پولیس کے مطابق لاش جزوی طور پر جلی ہوئی تھی۔ سونیا ٹک ٹاک پر ڈھائی لاکھ سے زائد فالوورز کے ساتھ ایک معروف شخصیت تھیں۔
ملزم کا مجرمانہ ماضی
نیمز کی پراسیکیوٹر سیسیل گینساک نے ایک بیان میں کہا کہ ملزم پہلے بھی گھریلو تشدد اور منشیات کی اسمگلنگ کے مقدمات میں سزا پا چکا ہے۔ وہ دسمبر 2024 سے گارڈ میں پروبیشن سروس کی نگرانی میں تھا۔
پراسیکیوٹر کے مطابق، ملزم نے قتل کا اعتراف نہیں کیا ہے۔ تاہم، اس نے تسلیم کیا کہ واردات کی رات اور اس سے ایک رات پہلے اس کا مقتولہ سے تعلق رہا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران اس نے خاموشی کا حق استعمال کرتے ہوئے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔
ایسکارٹ سروس کا انکشاف
تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ ملزم سونیا بیلینا کا آخری رابطہ تھا۔ ذرائع کے مطابق، ان کی ملاقات ایک ایسکارٹ سروس کے ذریعے طے شدہ ڈیٹ پر ہوئی تھی۔ پراسیکیوٹر نے واضح کیا کہ دونوں کے درمیان صرف معاوضے پر مبنی تعلق تھا، کوئی اور رشتہ ثابت نہیں ہوا۔
ملزم کا نام عوامی طور پر جاری نہیں کیا گیا۔ اسے پیر کے روز حراست میں لیا گیا تھا اور اب باضابطہ طور پر قتل کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
حفاظتی اقدامات اور سابقہ سزائیں
پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ ملزم نے دسمبر 2023 میں للی کی ایک عدالت سے گھریلو تشدد کے الزام میں سزا پائی تھی۔ اس کے بعد اسے اپنی سابقہ ساتھی سے دور رکھنے کے لیے الیکٹرانک مانیٹرنگ بریسلٹ پہنایا گیا تھا۔ اس کی سابقہ ساتھی تقریباً 800 کلومیٹر دور رہتی ہیں۔
یہ واقعہ فرانس میں سوشل میڈیا شخصیات کی حفاظت پر ایک بار پھر سوال اٹھاتا ہے۔ سونیا بیلینا کے مداحوں نے سوشل میڈیا پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
یہ مقدمہ اب نیمز کی فوجداری عدالت میں زیر سماعت ہوگا، جہاں ملزم کو عمر قید کی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے۔
