واشنگٹن – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت اور پاکستان کے مابین تنازعہ ختم کرنے میں اپنے کردار کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے جانب سے دی جانے والی ٹیرف کی دھمکیوں کا اہم کردار رہا ہے جس کے باعث دونوں ممالک نے جنگ بندی کی جانب قدم بڑھایا۔
وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے دعوے کو دہرایا کہ ان کی مداخلت سے ہی دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کو روکا گیا۔ “بھارت اور پاکستان ایٹمی جنگ کے دہانے پر تھے، اگر میں انہیں نہ روکتا تو یہ معاملہ کسی اور طرف جا سکتا تھا،” ٹرمپ نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت سات طیارے گرائے گئے، جن کی مالیت 150 ملین ڈالرز تک تھی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے دونوں ممالک سے بات کی اور انہیں آگاہ کیا کہ اگر وہ ایٹمی جنگ کی جانب بڑھتے ہیں تو امریکہ ان کے ساتھ کوئی تجارتی معاہدہ نہیں کرے گا۔ “میں نے کہا کل مجھے فون کریں، لیکن ہم نہیں چاہتے کہ آپ لوگ جنگ میں جائیں،” ٹرمپ نے کہا۔
اگرچہ بھارت نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ امریکی صدر کے ٹیرف کی دھمکیوں سے یہ سمجھوتہ ہوا، لیکن پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کے اس اقدام کی تعریف کی ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان امن کیلئے مثبت قدم تھا۔
