کوپن ہیگن: ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش کے خلاف ہزاروں افراد نے ڈنمارک کے دارالحکومت میں احتجاجی ریلی نکالی۔ مظاہرین نے خودارادیت اور بین الاقوامی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “ایک اتحادی سے خوفزدہ نہیں ہوا جا سکتا”۔
سفید اور سرخ جھنڈوں کی لہر
17 جنوری 2026 کو کوپن ہیگن کے ٹاؤن ہال سکوائر پر ہزاروں افراد نے گرین لینڈ اور ڈنمارک کے جھنڈے لہراتے ہوئے احتجاج کیا۔ دھندلے اور ابر آلود موسم میں مظاہرین نے گرین لینڈ کے مقامی نام “کلالیت نونات” کے نعرے لگائے۔
ایک مظاہرہ کرنے والی کرسٹن ہجورنہولم نے کہا، “میرے لیے اس میں حصہ لینا ضروری ہے کیونکہ یہ بنیادی طور پر گرین لینڈ کے لوگوں کے خودارادیت کے حق کا معاملہ ہے۔ کسی ریاست یا اتحادی سے خوفزدہ نہیں ہوا جا سکتا۔ یہ بین الاقوامی قانون کا مسئلہ ہے۔”
نوک میں بھی احتجاج کی تیاری
رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز ڈنمارک کی دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں بھی احتجاجی ریلیوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ فیس بک ایونٹ پیج پر تقریباً 900 افراد نے شرکت کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ گرین لینڈ کی کل آبادی تقریباً 57 ہزار ہے۔
تحریک کی منتظمہ اویجا روزنگ اولسن نے ایک بیان میں کہا، “ہم بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کا احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ صرف ہماری جنگ نہیں ہے، یہ پوری دنیا سے متعلق جنگ ہے۔”
عوامی رائے واضح
جنوری 2025 کے آخری جائزے کے مطابق 85 فیصد گرین لینڈ والے امریکہ کے ساتھ الحاق کے خلاف ہیں۔ صرف 6 فیصد افراد اس کے حق میں ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ میں موجود نایاب معدنیات اور اس کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے اس خطے پر عالمی طاقتوں کی نظریں ہیں۔ تاہم مقامی آبادی اپنی خودمختاری اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنے پر زور دے رہی ہے۔
