واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی دولت میں ان کے دوسری بار اقتدار سنبھالنے کے بعد 5.3 ارب ڈالر کا غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی مجموعی دولت 2.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 7.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جس سے وہ امریکی تاریخ میں عہدہ صدارت پر رہتے ہوئے سب سے زیادہ امیر ہونے والے صدر بن گئے ہیں۔
امریکی بیورو آف گورنمنٹ ایتھکس کی جانب سے جاری کردہ 927 صفحات پر مشتمل مالیاتی اعلامیے میں ٹرمپ کی دولت میں اضافے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس میں کرپٹو کرنسی، رئیل اسٹیٹ، اور خاندانی کاروباری معاہدوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
کرپٹو کرنسی سے 1.4 ارب ڈالر کی کمائی
17 جنوری 2025 کو حلف برداری سے چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے اپنی تصویر والی کرپٹو کرنسی $TRUMP لانچ کر کے سب کو حیران کر دیا۔ ایک ارب ورچوئل ٹوکنز کے اجرا سے انہیں 635 ملین ڈالر کا فائدہ ہوا۔
ٹرمپ نے اپنے صدارتی عہدے کو استعمال کرتے ہوئے کرپٹو مارکیٹ کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی پالیسیاں اپنائیں، جس کا براہ راست فائدہ ان کی ذاتی سرمایہ کاری کو پہنچا۔ 29 جون تک ان کے پاس 288 ملین ڈالر کی کرپٹو کرنسیز موجود تھیں، جن میں 150 ملین ڈالر کی ایتھیریم اور 33 ملین ڈالر کی بٹ کوائن شامل ہیں۔
ٹرمپ نے 2024 میں اپنے بیٹوں ایرک اور ڈونلڈ جونیئر کے ساتھ مل کر ورلڈ لبرٹی فنانشل نامی کمپنی قائم کی۔ اس کمپنی کی اپنی کرپٹو کرنسی WLFI نے آغاز میں 550 ملین ڈالر کمائے، جس کا 75 فیصد حصہ یعنی 410 ملین ڈالر ٹرمپ خاندان کی مکمل ملکیت والی کمپنی DT Marks DeFi LLC کو منتقل ہوا۔
تاہم، ٹرمپ کی دولت میں یہ اضافہ دوسروں کے نقصان پر ہوا ہے۔ رائٹرز کی تحقیقات کے مطابق WLFI میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو 674 ملین ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ $TRUMP ٹوکن نے تقریباً 10 لاکھ افراد کو 3.8 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
رئیل اسٹیٹ اور مصنوعات کی فروخت سے مزید آمدنی
رئیل اسٹیٹ ٹرمپ کی دولت کا روایتی ذریعہ رہا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ان کی جائیدادوں سے 575 ملین ڈالر سے زائد آمدنی ہوئی۔ فلوریڈا میں مار-اے-لاگو کلب نے 77.5 ملین، میامی میں گولف کورس نے 122 ملین، اور نیو جرسی کے گولف کلب نے 35 ملین ڈالر کمائے۔
ٹرمپ نے اپنا نام مختلف بین الاقوامی ہوٹلوں کو استعمال کرنے کی اجازت دے کر بھی خطیر رقم وصول کی۔ ابوظہبی اور بخارسٹ میں نام کے استعمال کے عوض 5، 5 ملین ڈالر جبکہ دبئی میں 10 ملین ڈالر ملے۔
گھڑیوں، کتابوں اور بائبل جیسی مصنوعات کی فروخت سے بھی 8.5 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی۔ ٹرمپ نے جولائی میں اپنے سوشل نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر اعلانات تک خصوصی رسائی کے لیے 60,000 سے 100,000 ڈالر ماہانہ تک کے سبسکرپشن پلان بھی متعارف کرائے، جس سے سرمایہ کار مارکیٹ کی نقل و حرکت کا اندازہ لگا کر منافع کما سکتے ہیں۔
خاندانی کاروبار اور مفادات کا تصادم
ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے ذاتی مالی معاملات میں ملوث نہیں ہیں اور انہوں نے اپنے بچوں کو آزادی دے رکھی ہے، لیکن حقیقت میں خاندان کے ہر فرد نے صدارت کے دوران غیر معمولی مالی فائدہ اٹھایا ہے۔
خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے ایمیزون پر اپنی دستاویزی فلم کے حقوق سے 10.7 ملین ڈالر کمائے۔ ایرک اور ڈونلڈ جونیئر ٹرمپ آرگنائزیشن چلاتے ہوئے اپنے والد کی پالیسیوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ قازقستان میں کان کنی کے منصوبے کے لیے 1.6 ارب ڈالر کی ممکنہ وفاقی فنڈنگ کے اعلان کے وقت ٹرمپ کے بیٹے اس منصوبے کے سرمایہ کاروں میں شامل تھے۔
صدر کے داماد جیرڈ کشنر، جن کی دولت ایک ارب ڈالر سے زائد ہے، سفارت کاری اور کاروبار کو یکجا کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے ساتھ 55 ارب ڈالر میں الیکٹرانک آرٹس کی خریداری میں ان کا کردار سامنے آیا ہے، جبکہ سعودی عرب غزہ مذاکرات میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور امریکہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔
ڈیموکریٹس کی تحقیقات کا مطالبہ
سینیٹر الزبتھ وارن سمیت متعدد ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ٹرمپ کے مالی معاملات میں مفادات کے تصادم پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ وارن نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ نے 6 جنوری کو Nvidia کے 10 لاکھ ڈالر کے شیئرز خریدے اور ایک ہفتے بعد ان کی انتظامیہ نے چین کو چپس کی فروخت کے قواعد میں نرمی کر دی، جس سے شیئرز کی قیمت میں زبردست اضافہ ہوا۔
وارن اور رکن کانگریس رابرٹ گارسیا نے 12 اگست کو 17 صفحات پر مشتمل خط میں ٹرمپ سے ان کے مالیاتی منتظمین کے نام ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اندرونی معلومات کے غلط استعمال، مارکیٹ کی ہیرا پھیری اور ذاتی مفاد میں پالیسی سازی کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔
ان کوششوں کا مقصد ایک ایسا قانون متعارف کرانا ہے جو صدور کو ذاتی طور پر اسٹاک رکھنے سے روکے، جو فی الحال قانونی ہے اور اسے صرف ظاہر کرنا ضروری ہوتا ہے۔
