فرانسیسی گھرانوں میں غیر استعمال شدہ اشیاء کا ذخیرہ
ایک تازہ سروے کے مطابق 86 فیصد فرانسیسی شہری اپنے گھروں میں ایسی اشیاء جمع کیے ہوئے ہیں جنہیں وہ استعمال نہیں کر رہے، جن کی اوسط مالیت 320 یورو بتائی گئی ہے۔ آپشن وے انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے لی بون کوائن کے لیے کیے گئے اس سروے میں 1,054 افراد سے بات چیتی گئی۔
نوجوان اور بزرگ سبھی شامل
سروے کے نتائج میں بتایا گیا کہ 18 سے 24 سال کی عمر کے 89 فیصد نوجوانوں کے پاس غیر استعمال شدہ سامان موجود ہے، جبکہ 65 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح 91 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ ہر گھرانے میں اوسطاً 19 اشیاء ایسی ہیں جو صرف الماریوں میں پڑی ہیں۔
کپڑے، کتابیں اور کھلونے سب سے نمایاں
- 65 فیصد افراد کے پاس غیر استعمال شدہ کپڑے
- 56 فیصد کے پاس غیر پڑھی ہوئی کتابیں
- 31 فیصد کے پاس پرانے کھلونے
معاشی فوائد سے محرومی
سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ مسئلہ صرف امیر گھرانوں تک محدود نہیں ہے۔ ماہانہ 1,000 یورو سے کم آمدنی والے گھرانوں میں بھی 75 فیصد افراد نے تسلیم کیا کہ وہ غیر استعمال شدہ اشیاء جمع کیے ہوئے ہیں۔ 46 فیصد شرکاء کا کہنا تھا کہ ان کے پاس 200 یورو سے زائد کا غیر استعمال شدہ سامان موجود ہے۔
فروخت میں رکاوٹیں
اگرچہ 95 فیصد افراد مانتے ہیں کہ ان غیر استعمال شدہ اشیاء کی فروخت سے اضافی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن 82 فیصد افراد نے ایسی فروخت نہ کرنے کی مختلف وجوہات بتائیں۔ وقت کی کمی، کم منافع کا خدشہ، اور کچھ اشیاء سے جذباتی وابستگی ایسی وجوہات میں شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گھروں میں پڑے ان غیر استعمال شدہ سامان کی مناسب قیمت پر فروخت سے نہ صرف اضافی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ گھروں میں جگہ کا مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے۔
