چین نے پاکستان کے استحکام اور ترقی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کے خلاف مؤثر کارروائی، فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت، اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان سیمنٹ کی پیداوار میں اضافے، قابل تجدید توانائی، اور کوئلے کی گیسی فکیشن سمیت اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔
بیجنگ میں ہونے والی دستخط کی تقریب میں صدر آصف علی زرداری، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، شرجیل میمن، اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر پاکستان میں سیمنٹ کی پیداوار میں 5000 ٹن یومیہ اضافے، قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر تعاون، اور کوئلے کی گیسی فکیشن کے منصوبوں پر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
اس سے قبل صدر آصف علی زرداری کی چین کے وزیر اعظم لی چیانگ سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے پر بھی گفتگو کی۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان پہلے چین کا اتحادی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فولادی دوستی قائم ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور پاکستان ہر موسم کے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ صدر زرداری نے چینی صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کو اپ گریڈ کر کے جدید ترقیاتی راہداری بنایا جائے گا اور پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز میں چینی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان اور چین نے تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے، اور دفاعی و سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ چین نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔
صدر آصف علی زرداری نے چینی صدر شی جن پنگ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی، جسے چینی صدر نے قبول کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
