امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فضائی حملوں نے ایران کی اہم جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائی کی، جس سے مشرق وسطیٰ میں تناؤ نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔
ایران کی جانب سے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اپنے علاقے، خودمختاری، سلامتی اور عوام کا دفاع ہر ممکن قوت سے کرے گا۔ ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے بھی کیے، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
کلیدی واقعات کے مطابق امریکہ نے ایران کے فردو، اصفہان اور نطنز کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ امریکی وزارت دفاع کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حکومت کی تبدیلی کے لیے نہیں کی گئی۔ اعلیٰ امریکی جنرل نے اس آپریشن میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی تفصیلات فراہم کیں، جسے “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کا نام دیا گیا۔ ایران نے انتباہ دیا ہے کہ اس کے نتائج دائمی ہوں گے اور کہا کہ امریکہ نے سفارتکاری کو دھوکہ دیا ہے۔ پاکستان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تہران کے دفاع کے حق کی حمایت کی ہے۔
امریکی صدر نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ اگر ایران نے جلد ہی امن قائم نہ کیا تو مزید اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جوہری افزودگی کی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے اور اب ایران کو مشرق وسطیٰ کا غنڈہ قرار دیتے ہوئے امن قائم کرنا ہوگا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ان حملوں پر مبارکباد دی اور کہا کہ امریکہ کی عظیم اور انصاف پسند قوت تاریخ کو بدل دے گی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے وضاحت کی کہ یہ آپریشن حکومت کی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر اس “جرم پر مبنی جارحیت” کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے بھی اپنے قانونی فرائض ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔
پاکستان کی حکومت نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ پاکستان نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔
امریکی صدر نے ایران کو متنبہ کیا کہ اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو اسے “زیادہ طاقت” سے جواب دیا جائے گا۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے اسرائیل کے خلاف “خودکش ڈرونز” لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ حملے امریکی صدر کے لیے داخلی سطح پر بھی تنازعات کا سبب بن سکتے ہیں، جہاں مختلف سیاستدانوں نے کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ کے آغاز پر تنقید کی ہے۔
جمہوریت پسندوں نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اقدام آئین کی خلاف ورزی ہے اور اس کے نتیجے میں خطے میں مزید کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
