واشنگٹن: امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے اتوار کے روز ایک پریس بریفنگ کے دوران ایران کے جوہری مراکز پر امریکی فضائی حملوں کی تفصیلات فراہم کیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اتوار کے روز ہونے والے امریکی فضائی حملوں نے ایران کے اہم جوہری مقامات کو “مکمل طور پر تباہ” کر دیا ہے، جب کہ واشنگٹن نے تہران کے ساتھ اسرائیل کی جنگ میں شمولیت اختیار کی۔
جنرل کین نے آپریشن “مڈنائٹ ہیمر” کو امریکی تاریخ میں سب سے بڑی B-2 آپریشنل کارروائی قرار دیا، جس کے نتیجے میں ہدف کو “انتہائی شدید نقصان اور تباہی” پہنچائی گئی۔ جنرل کین کے مطابق، اس مشن میں سات B-2 بمبار طیارے شامل تھے، جو مشن میں شرکت کے لیے اپنے بیس سے مشرق کی طرف روانہ ہوئے۔
جنرل کین نے مزید کہا کہ یہ ایک انتہائی خفیہ مشن تھا جس کے بارے میں واشنگٹن میں بہت کم لوگوں کو معلومات تھیں۔ رات کے وقت، ایک بڑا B-2 اسٹرائیک پیکیج امریکہ سے لانچ کیا گیا۔ اس مشن کے دوران، بمبار طیاروں نے متعدد فضائی ری فیولنگ مکمل کیں اور مشرق وسطیٰ میں پہنچنے پر دیگر معاون اور حفاظتی طیاروں کے ساتھ جڑ گئے۔
جنرل کین نے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے علاقے میں موجود ایک امریکی آبدوز نے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل اصفہان میں اہم سطحی انفراسٹرکچر اہداف کے خلاف 24 سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل داغے۔ آپریشن کے دوران، امریکی فضائیہ نے دشمن کے لڑاکا طیاروں اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے خطرات کو ختم کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے۔
جنرل کین نے بتایا کہ امریکی اسٹرائٹیجک کمانڈ، ٹرانسپورٹیشن کمانڈ، سائبر کمانڈ، اسپیس کمانڈ، اور یورپی کمانڈ نے اس حملے میں مدد فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فضائیہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور ایرانی دفاعی نظام نے بھی بمبار طیاروں کو نہیں دیکھا۔
آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے دوران، امریکی فوج نے 75 سے زیادہ درست نشانہ باز ہتھیار استعمال کیے، جن میں GBU-57 Massive Ordnance Penetrator (MOP) شامل تھے۔ جنرل کین نے خبردار کیا کہ امریکہ کسی بھی ایرانی جوابی حملے کے لیے تیار ہے اور اس کا جواب دینا ایک “انتہائی ناقص انتخاب” ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوجی جوانوں اور شہریوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے اور بہت سے اثاثے اب بھی فضاء میں موجود ہیں۔
