پیرس: فرانسیسی حکومت کی جانب سے ملک بدری کے فیصلے کے بعد روسی صحافی زینیا فیڈورووا نے ایک بار پھر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو کو براہ راست مخاطب کیا ہے۔ انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے ’پروپیگنڈا‘ اور ’مداخلت‘ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی حکومت کے پاس ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس مواد موجود نہیں ہے۔
اتوار 23 اگست کو جریدے ’جرنل ڈو دیماںش‘ (JDD) میں شائع ہونے والے اپنے تازہ مضمون میں، جس کا عنوان تھا ’مسٹر بارو، مداخلت کہاں ہے؟‘، فیڈورووا نے اپنی ملک بدری کے فیصلے کو سیاسی بنیادوں پر مبنی قرار دیا۔ انہوں نے استدلال کیا کہ ایک صحافی کو محض اس کی قومیت کی بنیاد پر ’غیر ملکی ایجنٹ‘ قرار دینا ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتا ہے اور اس سے آزادی اظہار رائے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
حکومت پر ’حقائق پیش کرنے‘ کا دباؤ
فرانسیسی وزارت خارجہ کے سربراہ ژاں نوئل بارو نے حال ہی میں فیڈورووا کو ’روسی پروپیگنڈسٹ‘ اور ’تخریب کاری کی پیشہ ور‘ قرار دیا تھا۔ اس کے جواب میں فیڈورووا نے اپنے کالم میں لکھا کہ حکومت کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر ملک بدری کا کوئی بھی بہانہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن آخرکار حکومت کو ان حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا جنہیں وہ پیش کرنے سے قاصر ہے۔
انہوں نے مزید لکھا: ’ایک صحافی کو غیر ثابت شدہ الزامات کی بنیاد پر غیر ملکی طاقت کا ایجنٹ قرار دینا، اور اس کی قومیت کو جرم کے طور پر پیش کرنا، محض ایک آواز کو دبانے کا طریقہ ہے۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی میڈیا سرگرمیاں عوامی بحث کا حصہ ہیں، نہ کہ کریملن کی ہدایت پر چلائی جانے والی کوئی کارروائی۔
بولورے میڈیا گروپ سے قریبی تعلقات
یہ چوتھا موقع ہے جب فیڈورووا نے اپنی ملک بدری کے فیصلے کے بعد JDD میں کوئی مضمون شائع کیا ہے۔ اگست کے اوائل میں شائع ہونے والے ایک کالم میں، جب ان کے اثاثے چھ ماہ کے لیے منجمد کیے گئے تھے، انہوں نے فرانسیسی حکام کے اقدامات کو ’آمرانہ طرز عمل‘ سے تشبیہ دی تھی۔
فرانسیسی میڈیا میں فیڈورووا کی نمایاں موجودگی خاص طور پر قدامت پسند ارب پتی ونسنٹ بولورے کے میڈیا گروپ کی وجہ سے رہی ہے، جہاں وہ CNews اور یورپ 1 پر باقاعدگی سے جلوہ گر ہوتی رہی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کینال+ اور لاگارڈیر گروپس کے سربراہان نے ان کی ملک بدری کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اسے ’آزادی اظہار رائے اور رائے کے تنوع پر شدید حملہ‘ قرار دیا تھا۔
قانونی جنگ جاری
فرانسیسی وزارت داخلہ نے 29 جولائی کو فیڈورووا کے خلاف ملک بدری کا حکم نامہ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا رویہ ’ریاست کے بنیادی مفادات‘ کے لیے خطرہ ہے اور وہ ’عوامی نظم و نسق کے لیے سنگین اور فوری خطرہ‘ ہیں۔ اس کے دو روز بعد وزارت خزانہ نے ان کے اثاثے منجمد کر دیے تھے تاکہ ’مداخلت کے نئے اقدامات‘ کو روکا جا سکے۔
فیڈورووا کی وکیل کے مطابق، جب انہیں ان اقدامات کے بارے میں اطلاع ملی تو وہ پہلے ہی چھٹیوں پر بیرون ملک موجود تھیں۔ وکیل نے کہا کہ فیڈورووا فرانس اسی وقت واپس آئیں گی جب ملک بدری کا حکم معطل یا منسوخ ہو جائے گا۔
فیڈورووا نے ان اقدامات کے خلاف دو قانونی چارہ جوئی کی تھیں، لیکن دونوں کو مسترد کر دیا گیا۔ تاہم، ان کی قانونی ٹیم نے بنیادی طور پر حکم نامے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے، جس پر ابھی حتمی فیصلہ آنا باقی ہے۔
جرمنی سے پابندی کے بعد فرانس آمد
زینیا فیڈورووا پر 2024 سے جرمنی میں بھی پابندی عائد ہے، جہاں وہ مقیم تھیں۔ ان پر روسی خبر رساں ایجنسی ’رپٹلی‘ میں کام کرنے کے دوران ’مداخلت کی سرگرمیوں‘ میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔
فیڈورووا 2017 میں روسی سرکاری چینل ’رشیا ٹوڈے‘ (RT) کے فرانسیسی بیورو کی سربراہی کے لیے پیرس منتقل ہوئی تھیں۔ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد مارچ 2022 میں یورپی یونین نے غلط معلومات پھیلانے کے الزام میں اس چینل پر پابندی عائد کر دی تھی۔
جیسے جیسے 2027 کے فرانسیسی صدارتی انتخابات قریب آ رہے ہیں، ونسنٹ بولورے کے میڈیا نیٹ ورک میں فیڈورووا کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے عوامی مباحثے میں ممکنہ ہیرا پھیری کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
