geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
September 19, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Fatbikes Gain Popularity in French Cities Amid Safety Concernsفیٹ بائیکس کا بڑھتا رجحان: سہولت، تنازعہ اور ضابطے کی ضرورت
    • France Revises Under-15 Social Media Ban for EUفرانس نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا نیا مسودہ یورپی یونین کو پیش کر دیا
    • Screens and Parenting: The Hidden Classroom Crisisاسکرینیں اور والدین: بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر پوشیدہ اثرات
    صحت و تندرستی
    • Why Runner's Diarrhea Strikes Athletes Mid-Raceدورانِ دوڑ میں پیٹ کی خرابی: وجوہات اور بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    • Fatbikes Gain Popularity in French Cities Amid Safety Concernsفیٹ بائیکس کا بڑھتا رجحان: سہولت، تنازعہ اور ضابطے کی ضرورت
    • Pediatrician Sounds Alarm Over Tiger Mosquito Surge in Val-de-Marneٹائیگر مچھروں کی افزائش اور چکن گونیا کے مقامی کیسز پر ویلی-ڈی-مارن میں تشویش
    دلچسپ اور عجیب
    • When Your Child's Name Becomes Too Popularالمقبول ناموں کا بوجھ: جب والدین کو اپنے بچوں کے نام پر پچھتاوا ہوتا ہے
    • France Revises Under-15 Social Media Ban for EUفرانس نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا نیا مسودہ یورپی یونین کو پیش کر دیا
    • Paris Metro Roof Surfing Sparks Safety Outrageپیرس میں میٹرو کی چھت پر نوجوان کی خطرناک stunt، حکام کی سخت مذمت
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • AI Expert Warns Against Fear Marketing by Tech Giantsاے آئی کی “خوفناک مارکیٹنگ”: کیا بڑی ٹیک کمپنیاں جان بوجھ کر ڈرا رہی ہیں؟
    • NASA Probe Spots Massive New Moon Craterچاند کی سطح پر نیا دیوہیکل گڑھا دریافت، سائنسدان حیران
    • Zuckerberg Rejects Calls to Slow AI Developmentزکربرگ کا مصنوعی ذہانت کی ترقی کو سست کرنے سے انکار، ٹرمپ کے مؤقف کے قریب
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

علی گڑھ تحریک کی عصری معنویت پر ہمہ جہت دستاویز

October 15, 2020October 15, 2020 0 1 min read
Sir Syed Ahmad Khan
Share this:

Sir Syed Ahmad Khan

تحریر : ابوالکلام قاسمی

پروفیسر صغیر افراہیم یوں تو فکشن کے نقاد کی حیثیت سے بالخصوص اور اردو شاعری اور غیر افسانوی نثر سے متعلق بالعموم اپنی شہرت رکھتے ہیں، لیکن ایک تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے طویل اور گہری نسبت کے سبب اور دوسرے کچھ عرصے تک رسالہ ‘تہذیب الاخلاق’ کے مدیر ہونے کی وجہ سے انھوں نے سرسید اور علی گڑھ اور ان کے متعلقات پر متعدد اہم مضامین لکھے ہیں۔ یہ کتاب (عصرِ حاضر میں علی گڑھ تحریک کی اہمیت ومعنویت) در اصل اسی نوع کے مضامین کا ایک عمدہ انتخاب ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے نہ صرف یہ کہ سرسید تحریک کو موضوع گفتگو بنایا ہے بلکہ اس تحریک کے حوالے سے ڈپٹی نذیر احمد، شبلی نعمانی، علامہ اقبال اور محمد حسین آزاد کی علمی اور ادبی شخصیات بھی تفصیل سے زیر بحث آئی ہیں۔ مصنف نے اس ضمن میں ایک بہت اہم علمی اور تحقیقی مضمون ”تحریک آزادی میں علماء کرام کاحصہ” کے عنوان سے اپنا ایک قابل مطالعہ اور بحث طلب مضمون بھی شامل کیا ہے۔

ہندوستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں بحیثیت مجموعی مسلمانوں کے رول کو ہی پوری طرح نظر انداز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے چہ جائے کہ علماء کرام اور تحریک آزادی کو موضوع گفتگو بناکر صغیر افراہیم کی طرح علمی اور تحقیقی گفتگو کی جائے۔ بہ ظاہر تو ایسا تصور کیاجاتا ہے کہ گزشتہ دو تین سوبرسوں میں علماء کرام نے مدارس میں درس وتدریس کا فریضہ انجام دینے، مذہبی قیادت کی ذمہ داریوں کو نبھانے اور دنیاوی سرگرمیوں سے لاتعلق ہوکر اسلامی شعائر کی تبلیغ کرنے کے علاوہ ہندوستان کی سماجی اور ثقافتی زندگی میں کوئی بڑا اہم کردار نہیں ادا کیا۔ پروفیسر صغیر افراہیم نے اپنے اس مضمون میں علماء کے مناظروں سے لے کر، ریشمی رومال کی تحریک اور عملی طور پر علماء اور مشائخ کی سیاسی اور قائدانہ سرگرمیوں کا بہت سلیقے سے جائزہ لیا ہے۔

ہندوستان میں جمعیة العلماء کی تحریک رہی ہو، مذہبی قیادت کو سیاسی قیادت کے نعم البدل کے طور پر استعمال کرنے کامسئلہ رہا ہو یا کالا پانی سے لے کر مالٹا تک علماء کرام کی زندانی زندگی کی روداد رہی ہو، ہر جگہ علماء کا کردار نہایت بے داغ اور مہتم بالشان نظر آتاہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی، شیخ الہند، شیخ الاسلام محمدحسین مدنی، محمد علی جوہر، مولانا فضل حق خیرآبادی اور بہت بعد کے زمانے میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا احمدسعید ملیح آبادی کے اسماء گرامی اس سلسلے میں آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مصنف نے ان نمائندہ علماء میں سے بعض کی سیاسی اور ثقافتی سرگرمیوں کو تحریک آزادی کے سیاق وسباق میں رکھ کر نہایت عمدہ انداز میں تجزیہ کیا ہے اور بعض معنی خیز نتائج تک رسائی حاصل کی ہے۔

صغیر افراہیم صاحب نے چوں کہ اپنی ادارت میں رسالہ ”تہذیب الاخلاق” کے نہ صرف یہ کہ متعدد شمارے شائع کیے ہیں بلکہ اپنی ادارت کے زمانے میںلگاتار ”تہذیب الاخلاق” کے اجراء کے اغراض ومقاصد پر مبنی اداریے بھی لکھے ہیں اور وقتاً فوقتاً سرسید، علی گڑھ،سائنٹفک سوسائٹی اور سرسید احمد خاں کے لکچرز کے ساتھ سرسید احمد خاں کی تصانیف پر بھی توجہ مرکوز رکھی۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس موضوع پر کتاب کی اشاعت کی غرض سے اپنے مضامین کاایک عمدہ انتخاب تیار کرنا پڑا جو آپ کے سامنے ایک مربوط اور منظم صورت میں پیش کی جارہی ہے۔

اس کتاب میں سرسید احمد خاں کی دو اہم تصانیف ”تاریخ سرکشی بجنور” اور”اسباب بغاوت ہند” کے حوالے سے نوآبادتی مفاہمت اور مزاحمت کے حوالے سے ایک اہم اور قابل مطالعہ مضمون شامل کیاہے۔ راقم الحروف کو امتیازی طور پر ان کے اس مضمون نے خاصا متاثر کیا اور اندازہ ہوا کہ موصوف نے مابعد نوآبادیاتی نقطۂ نظر کی اہمیت کو نشان زد کرتے ہوئے نوآبادیاتی صورت حال کے ساتھ سرسید کی مفاہمت کے حدود اور مزاحمت کے امکانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے پورے لائحہ عمل کی شیرازہ بندی اور اس شیرازہ بندی کی نزاکتوں کو نشان زد کرنے کی کوشش کی ہے۔ زیر بحث مضمون اس اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ سرسید اور ان کے بیش تر معاصرین کو نوآبادیاتی ہیبت اور مرعوبیت کاشکار ثابت کرنے میں گزشتہ دنوں متعدد لکھنے والوں نے اپناخاصا زور قلم صرف کیا ہے۔ صغیر افراہیم نے اس پورے معاملے کو ایک متوازن اور معتدل زاویہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔

یوں تو زیر بحث کتاب ”عصر حاضر میں علی گڑھ تحریک کی اہمیت ومعنویت” کا دائرہ کار اس میں شامل متنوع موضوعات پر مبنی مضامین کے باعث بہت پھیلا ہوا ہے مگر متذکرہ معروضات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پروفیسر صغیر افراہیم نے ایک محتاط نقاد اور انصاف پسند ادیب کی حیثیت سے کیاکیا موقف اختیار کیے ہیں۔ راقم الحروف اس مختصر سی تحریر کے ساتھ مصنف کو ان کی اس اہم کاوش پر مبارکباد پیش کرتاہے۔
Prof Abul Kalam Qasmi

تحریر : ابوالکلام قاسمی

Share this:
Poor People Help
Previous Post الفلاح کا فلاحی سفر
Next Post افغان طالبان حنفی مسلک کے مطابق اسلامی نظام کے خواہاں لیکن ایران مخالف
Afghan Taliban

Related Posts

Paris Charges Suspect in €319M Drug Money Laundering

فرانس میں منی لانڈرنگ کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، 319 ملین یورو کی منی لانڈرنگ

September 19, 2026
Russia's War Veterans Storm Parliamentary Elections

روس کے انتخابات میں جنگ کے تجربہ کاروں کا بول بالا، داستانیں سنائی جا رہی ہیں

September 19, 2026
Boy, 7, Suspected in Aunt's Knife Killing in France

سینٹ مور دے فوسے میں خوفناک واقعہ: 7 سالہ بچہ اپنی خالہ کے قتل کا ملزم، والدہ حراست میں

September 19, 2026
Teen Charged Over Alleged School Attack Plot in Lyon

فرانس: 15 سالہ نوجوان پر سابق اسکول میں دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کا الزام

September 19, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.