بیجنگ میں منعقدہ ہائروکس ورلڈ کپ کے ایک مرحلے میں آسٹریلوی ایتھلیٹ جوانا وِیٹرزک کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ کسی سے چھپا نہیں رہا، جب انہیں مقابلے کے دوران پیٹ کی شدید خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنی ٹانگوں اور جوتوں پر لگے میل کے ساتھ دوڑتی رہیں، جس کی وجہ سے دیگر شرکاء کو بھی متاثرہ ٹریڈملز پر دوڑنا پڑا۔ بعد ازاں انتظامیہ نے ان ٹریڈملز کو تبدیل کیا۔
یہ واقعہ اعلیٰ سطح کے کھیلوں میں پہلا نہیں ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق، 2008 میں سوئیڈن کے میکائل ایکوال نے شدید اسہال کے باوجود نصف میراتھن دوڑ کر “باجسمین” یعنی “فضلات کا آدمی” کا وائرل لقب حاصل کیا۔ انہیں تقریباً دس کلومیٹر تک آنتوں کے شدید درد کا سامنا رہا۔
عام کھلاڑیوں میں بھی عام مسئلہ
صرف پیشہ ور کھلاڑی ہی نہیں، بلکہ عام ورزش کرنے والوں کو بھی اکثر تربیت یا مقابلے کے دوران نظامِ انہضام کی خرابی کا سامنا ہوتا ہے۔ اسے “رنرز ڈائریا” یا دوڑنے والوں کا اسہال کہا جاتا ہے۔
سوئس میڈیکل جرنل میں شائع ایک تحقیق کے مطابق، میراتھن میں حصہ لینے والوں میں 26 فیصد اسہال اور 54 فیصد تک فوری بیت الخلاء کی ضرورت کے واقعات سامنے آئے۔
خون کی روانی میں کمی بنیادی وجہ
لا کلینک ڈو کورر کی ماہرِ غذائیت ازابیل مورین کے مطابق، اس کی متعدد وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم “نظامِ انہضام کو خون کی فراہمی میں نمایاں کمی” ہے۔
- جسمانی مشقت کے دوران جسم خون کو پٹھوں کی طرف بھیجتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ آکسیجن فراہم ہو سکے۔
- نظامِ انہضام کو خون کی فراہمی 70 سے 80 فیصد تک کم ہو سکتی ہے، جس سے اس کا معمول کا میٹابولزم متاثر ہوتا ہے۔
- شدید گرمی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے کیونکہ خون جلد کی طرف بھی بھیجا جاتا ہے تاکہ جسمانی درجہ حرارت برقرار رہے۔
آسٹریلین کیتھولک یونیورسٹی کے پروفیسر جان ہاولے کے مطابق، گرم موسم میں خون پٹھوں کے علاوہ جلد کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بھی بھیجا جاتا ہے، جس سے مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
دوڑنے کے مخصوص عوامل
ڈاکٹر جیرالڈ گریمیون کے مطابق، دوڑنے کے دوران زمین پر قدموں کی ٹکر سے پیدا ہونے والی مکینیکل لہریں آنتوں تک پہنچتی ہیں، جس سے آنتوں کی حرکت کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور فوری بیت الخلاء کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
مزید برآں، اسپورٹس ڈرنکس اور کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور جیلز بھی ان علامات کو بڑھا سکتے ہیں۔ تناؤ بھی ایک اہم عنصر ہے کیونکہ نظامِ انہضام اعصابی نظام سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
ماہرین کے مطابق، مقابلے سے پہلے چند احتیاطی تدابیر اپنا کر اس مسئلے سے بچا جا سکتا ہے:
- مقابلے سے قبل بیت الخلاء ضرور استعمال کریں۔
- اہم مقابلے سے چند دن پہلے فائبر سے بھرپور غذاؤں اور گیس پیدا کرنے والی سبزیوں جیسے بروکلی، پھلیاں اور بند گوبھی سے پرہیز کریں۔
- مقابلے کے دن صبح کافی پینے سے گریز کریں۔
- مشقت کے دوران کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور مشروبات اور غذاؤں سے بچیں۔
- اگر طویل مشقت کی وجہ سے کھانے کی ضرورت ہو تو تربیت کے دوران آہستہ آہستہ اس کی عادت ڈالیں۔
- ضرورت سے زیادہ پانی نہ پییں، صرف پیاس کے مطابق پانی پئیں۔
- اپنی غذائی روٹین کو تربیت کے دوران متعدد بار آزمائیں اور مقابلے کے دن کوئی نئی چیز نہ آزمائیں۔
یاد رکھیں کہ نظامِ انہضام کی یہ خرابی کوئی شرم کی بات نہیں بلکہ ایک عام جسمانی عمل ہے جس سے دنیا بھر کے کھلاڑی متاثر ہوتے ہیں۔ مناسب تیاری اور احتیاط سے اسے کافی حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
