geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
March 24, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    • A new geopolitical chessboardچین کے عروج سے بدلتی عالمی طاقت کی کشمکش
    صحت و تندرستی
    • Long Covid's Psychological Theory Sparks Patient Outcryطویل کووڈ: علاج کی تلاش میں نفسیاتی نظریہ متنازعہ بن گیا
    • The '777 Rule' for Couples: Viral Trend or Relationship Savior?جوڑوں کے لیے ‘777 اصول’: کیا یہ محض ایک وائرل ٹرینڈ ہے یا مفصل مشورہ؟
    • Deep Sleep May Shield Brain from Alzheimer's, Study Findsگہری نیند: الزائمر کے خلاف دماغی ڈھال کا نیا سائنسی انکشاف
    دلچسپ اور عجیب
    • Russia's S-500 Prometheus: The Next-Gen Air Defense Systemروسیہ کا ایس-500 پرومیٹھیس: ہوا سے ہوا میں مار کرنے والا نیا جنگی نظام
    • The Night Belongs to Us: Women's Complex Relationship with Darknessرات اور عورت: آزادی کی خواہش اور خوف کے درمیان محصور وجود
    • Smart Glasses Raise Privacy Concerns: How to Protect Yourselfدیکھنے میں عام مگر خطرناک: اسمارٹ عینکیں اور آپ کی رازداری کا بحران
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • AI Pioneer Yann LeCun's Startup AMI Raises $1 Billionیان لی کن کی اے آئی اسٹارٹ اپ اے ایم آئی نے ‘ورلڈ ماڈلز’ کے لیے ایک ارب ڈالرز کی فنڈنگ حاصل کر لی
    • Smart Glasses Raise Privacy Concerns: How to Protect Yourselfدیکھنے میں عام مگر خطرناک: اسمارٹ عینکیں اور آپ کی رازداری کا بحران
    • Pakistan to Witness 'Blood Moon' in Total Lunar Eclipse Todayآج پاکستان کے آسمان پر ‘خون کے چاند’ کا نظارہ، مکمل چاند گرہن واقع ہوگا
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

تعلیم اور شعور

December 19, 2020 0 1 min read
Education
Share this:

Education

تحریر : ڈاکٹر راحت جبین

تعلیم اور شعور جامع و وسیع معنی رکھنے والے دو ایسے الفاظ ہیں جو آپس میں مترادف نہیں ہیں مگر ہم نے انہیں ایک دوسرے سے منسلک کر لیا ہے۔ لفظ تعلیم عربی زبان سے ماخوذ ہے جس کے لفظی معنی ہیں واقفیت حاصل کرنا، نشونما یا تربیت کرنا، جاننا یا آگاہی حاصل کرنا ہیں۔ اصطلاحی حوالے سے دیکھا جائے تو تعلیم نئی نسلوں تک معاشرتی اقدار، ثقافت اور ادب کی منتقلی کا دوسرا نام ہے۔ شعور کی بات جائے تو اس کے لفظی معنی احساس کے ہیں۔یعنی وہ علم جو بنا تعلیم اور دلیل کے حاصل ہو یا وہ نفسیاتی علم جو خود اپنی ذات یا ماحول کے متعلق بذریعہ عقل ملے.۔ ادراک، وجدان اور رجحان انسانی شعور کی بیداری کی مختلف صورتیں ہیں. ایک تعلیم یافتہ مگر بے حس، وجدان اور ادراک کی خاصیت کے مبرا شخص کبھی بھی باشعور نہیں ہوسکتا پھر چاہے کتنی بھی اعلی ڈگریوں کا حامل کیوں نہ ہو۔

ہم سب کے ذہنوں میں یہ بات گھر کر گئی ہے کہ تعلم اور شعور آپس میں مترادف ہیں، اس لیے صرف تعلیم یافتہ شخص ہی با شعور ہوسکتا ہے مگر ایسا ہرگز نہیں ہے. ہمارا یہ نظریہ کہ تعلیم ہی شعور کا موجد ہے، بالکل غلط اور بے بنیاد ہے ۔ اللہ تعالی نے انسان کو عقل و شعور تو اسی دن ہی عطا کیا تھا جس دن بنی نوع انسان وجود میں آیا تھا۔ اسی عقل شعور کی بنا پر انسان اشرف المخلوقات کے بلند ترین درجے پر فائز کیا گی۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہمارے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر ہیں جن میں سے بیشتر تعلیم یافتہ نہیں تھے مگر ان سب کی ایک خاصیت یہ ضرور تھی کہ وہ حد سے زیادہ معتبر،باشعور،انتہائی مدبرانہ شخصیت کے حامل شریف النفس انسان تھے۔ انہیں غلط اور صحیح کا مکمل ادراک تھا۔ یہ ادراک اور آگہی وحی آنے کے بعد اپنے عروج پر پہنچا جس نے انبیاءعلیہ السلام کو عام انسان سے معتبر کیا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تعلم انسانی خیالات کو سنوارتی ہے ۔ انسانی ذہن پر سوچوں کے نئے دروازے وا کرتی ہے ۔ زندگی گزارنے کے نئے طریقے متعارف کراتی ہے.۔زندگی کو آسان بنانے کا ہنر عطا کرتی ہے ۔ اگر ہم صرف تعلیم کو ہی شعور سے وابستہ کرلیں تو اس وقت ایک تعلیم یافتہ شخص کا شعور کہاں جاتا ہے جب وہ تعلیم کی بدولت ، دولت سے مالا مال اعلی عہدے پر فائز ہوتے ہوئے بھی اپنے والدین کو بوجھ سمجھتا ہے. اور انہیں اولڈ ایج ہوم میں بھیجتا ہے. یا پھر بے یار مدد گار چھوڑ کر دوسرے ملک کا نمبر دو شہری بننا قبول کرتا ہے۔ ااس وقت یہ شعور کہاں جاتا ہے جب وہ بھوک اور افلاس کے مارے ہوئے لوگوں کو اپنی تعلیم اور دولت کے غرور میں زمین پر چلنے والے کیڑے مکوڑے سمجھتا ہے اور پنے ماتحت افراد سے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کرتا ہے ۔ اس وقت یہ شعور کہاں جاتا ہے جب دنیا کو دین پر فوقیت دیتا ہے ۔ اس وقت ایک تعلیم یافتہ شخص کا شعور کہاں جاتا ہے جب وہ حکمرانیت کے اعلی عہدوں پر فائز ہو کر ملکی خزانے کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتا ہے اور رعایا پر بھوک، افلاس اور ظلم کے دروازے کھولتا ہے اور اس وقت تعلیم یافتہ خواتین کا شعور کہاں جاتا ہے جب وہ اپنی تعلیم اور دولت کے غرور میں اپنا پہناوا کم کرتی ہیں اور فیشن کے نام پر عریاں لباس زیب تن کرتی ہیں۔

کیا یہ ہے وہ شعور جو اس تعلیم کی دین ہے ۔ نہیں جناب یہ شعور نہیں ہے یہ صرف اور صرف تعلیم کا غرور ہے۔ خود کو عقل کل سمجھنا سب سے بڑی بے وقوفی ہے اور کسی بھی تعلیم یافتہ شخص کا احساس برتری ذہنی پسماندگی کی ایک کیفیت ہے ۔ تعلیم تو غرور نہی عاجزی سکھاتی ہے ۔ جس کی روح تک پہنچتی ہے ، اسے اعلی منبر پر براجمان کرتی ہے اور جس کے اوپر سے گزرتی ہے، اس کے صرف پہناوے ، بول چال اور رہن سہن کے طریقوں کو بدلتی ہے۔

تعلیم یافتہ ہونے سے زیادہ ضروری باشعور ہونا ہے کیونکہ جہاں میں نے تعلیم یافتہ دولت مندا فراد کو اپنی دولت کے نشے میں مغرور دیکھا ہے وہیں ایک معمر اور باشعور شخص کو ایدھی کی شکل میں سڑکوں پر بھیک مانگتے بھی دیکھا ہے ، وہ بھی اپنے لیے نہیں بلکہ غریب لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ۔ جہاں میں نے تعلیم یافتہ اولاد کو اپنے والدین کو دھتکارتے دیکھا ہے وہیں کئی ان پڑھ بچوں کو اپنے بوڑھے والدین کا سہارہ بنتے بھی دیکھا ہے ۔ ایک جانب پڑھے لکھے معزز شوہر کو اپنی بیوی کو پیٹتے دیکھا ہے تو وہیں دوسری جانب ان پڑھ شخص کو اپنی گھر کی عورتوں کا تحفظ کرتے بھی دیکھا ہے.
Consciousness

پڑھے لکھے والدین کو اپنی بچیوں پر تعلیم کے دروازے بند کرتے دیکھا ہے اور کہیں ان پڑھ جاہل والدین کو اپنی بچیوں کو تعلیم دلانے کے لیے تگ و دو کرتے بھی دیکھاہے۔ میں نے ایسے ہی پڑھے لکھے با شعور لوگوں کو بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے بھی دیکھا ہے اور ان پڑھ لوگوں کو بیٹیوں کو اللہ کی رحمت مانتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ میں نے تعلیم یافتی افراد کو اسلامی تعلیمات سے انحراف کرتے اور اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑاتے بھی دیکھا ہے اور میں نے ان پڑھ افراد کو اسلامی اقدار کا پابند بھی دیکھا ہے۔ بے شک تعلیم ضروری ہے مگر ہم نے صرف اسناد کو تعلیم کا نام دیا ہے ۔ جب تک کسی کے پاس سند نہیں ہوگی وہ تعلیم یافتہ فرد کہلانے ک حقدار نہیں ۔ پھر چاہے وہ جعلی ہی کیوں نہ ہوں ۔ ا س لیے ہمیں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی سوچ کو بھی بدلنا ہوگااور شعور بھی حاصل کرنا ہو گا۔

تحریر : ڈاکٹر راحت جبین

Share this:
Abbas Tabish
Previous Post جدید اردو غزل کے وارث۔۔۔۔عباس تابش
Next Post کیا ٹام کروز کا مشن امپاسیبل کے سیٹ پر لوگوں کو ڈانٹنا ڈرامہ تھا؟
Tom Cruise

Related Posts

Pakistan Day: The Dream That Forged a Nation

یومِ پاکستان: وہ دن جب ایک خواب نے قوم کی صورت اختیار کی

March 23, 2026
Sahibzada Farhan Wins ICC Player of the Month After Record Run

ورلڈ کپ کی شاندار کارکردگی پر صاحبزادہ فرحان ‘آئی سی سی پلیئر آف دی مہینہ’ قرار

March 23, 2026
Trump Delays Iran Power Plant Strikes Amid Talks

ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں پر فوجی حملے پانچ دن کے لیے ملتوی کر دیے

March 23, 2026
Pakistan Emerges as Key Mediator in US-Iran Crisis

پاکستان ایران بحران میں کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا، ٹرمپ نے حملے ملتوی کر دیے

March 23, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.