بیجنگ — روبوٹکس کے میدان میں ایک تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں چینی انسان نما روبوٹس نے نصف میراتھن دوڑ میں انسانی عالمی ریکارڈ کو شکست دے دی ہے۔ اتوار کو ییزہوانگ میں منعقدہ مقابلے میں ہونر برانڈ کے روبوٹ نے 21 کلومیٹر کا فاصلہ محض 50 منٹ 26 سیکنڈ میں طے کرکے نئی تاریخ رقم کی۔
انسانی کارکردگی کو پیچھے چھوڑنے والا کارنامہ
سی سی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، یہ وقت موجودہ انسانی عالمی ریکارڈ ہولڈر یوگنڈا کے جیکب کیپلیمو کے 57 منٹ 20 سیکنڈ کے ریکارڈ سے تقریباً سات منٹ بہتر ہے۔ روبوٹ کی اوسط رفتار 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب رہی، جو اس سال کے مقابلے میں انسانی فاتح سے بھی زیادہ تیز ہے۔
مقابلے کا منفرد نظارہ
خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ ٹریک پر ہونے والے اس مقابلے میں روبوٹس اور انسانوں نے الگ الگ لینز میں دوڑ لگائی تاکہ تصادم سے بچا جا سکے۔ راستے کے دونوں جانب کھڑے تماشائیوں نے دوڑتے ہوئے روبوٹس کا مشاہدہ کیا، جن میں سے کچھ انتہائی جدید اور تیز رفتار تھے جبکہ دیگر نسبتاً سادہ ساخت کے حامل تھے۔
ایک سال میں حیرت انگیز ترقی
گزشتہ سال کے مقابلے کے مقابلے میں روبوٹس کی کارکردگی میں قابل ذکر بہتری آئی ہے۔ 2025 کے ایڈیشن میں فاتح روبوٹ نے یہ فاصلہ 2 گھنٹے 40 منٹ میں طے کیا تھا اور متعدد روبوٹس راستے میں گر گئے تھے۔ اس سال نہ صرف چال میں روانی آئی ہے بلکہ حصہ لینے والی ٹیموں کی تعداد بھی 20 سے بڑھ کر 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔
ابھی تک موجود چیلنجز
ماہرین کے مطابق، ان روبوٹس کو ابھی کچھ تکنیکی حدود کا سامنا ہے جن میں دوڑ کے دوران بیٹری تبدیل کرنے کی ضرورت اور گرنے کی صورت میں خود سے کھڑے ہونے کی صلاحیت کا فقدان شامل ہے۔ تاہم، تیز رفتار ترقی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شعبہ تیزی سے ارتقا پذیر ہے۔
روبوٹکس انڈسٹری میں بڑھتا ہوا دلچسپی
منظمین کا کہنا ہے کہ شرکت کرنے والی ٹیموں میں اضافہ روبوٹکس ٹیکنالوجی میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی واضح علامت ہے۔ چین کی ٹیکنالوجی کمپنیاں، خاص طور پر ہواوے کی ذیلی کمپنی ہونر، اس میدان میں اہم سرمایہ کاری کر رہی ہیں جس کے مستقبل میں انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتسم ہونے کی توقع ہے۔
