تشدد کو تعلیمی آلہ سمجھنے کا رجحان برقرار
فرانس میں جاری تازہ ترین بارومیٹر کے مطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران 83 فیصد والدین نے کم از کم ایک بار اپنے بچوں کے ساتھ زبانی یا نفسیاتی تشدد کا اعتراف کیا ہے جبکہ 37 فیصد نے جسمانی تشدد کی تصدیق کی ہے۔ یہ اعداد و شمار فاؤنڈیشن فار چائلڈ ہڈ اور تحقیقی گروپ پریویو کے زیر اہتمام جاری تیسرے بارومیٹر میں سامنے آئے ہیں۔
عام تعلیمی تشدد کی قانونی ممانعت کے باوجود قبولیت
چلانا، سزا دینا، تھپڑ مارنا، دھمکیاں دینا، جھنجھوڑنا اور کان مروڑنا جیسی حرکات اگرچہ 2019 سے فرانس میں قانوناً ممنوع ہیں، لیکن یہ والدین میں عام پائی جاتی ہیں۔ اس مطالعے میں 0 سے 17 سال تک کی عمر کے بچوں کے 1,000 سے زائد والدین شامل تھے۔
جسمانی سزاؤں کی معمول بننے کی شرح
بارومیٹر کے مطابق:
- 68 فیصد والدین نے تسلیم کیا کہ انہوں نے اپنے بچے پر چلایا یا چیخا
- 22 فیصد نے ہاتھ سے بچے کے کولہے پر مارا
- 30 فیصد نے ہاتھ، بازو یا ٹانگ پر تھپڑ مارا
- 19 فیصد نے “بیوقوف” یا “سست” جیسے تحقیر آمیز الفاظ استعمال کیے
فیزیکی تشدد کے بارے میں والدین کا رویہ
36 فیصد والدین فیزیکی کو بچے کو سزا دینے کے لیے قابل قبول سمجھتے ہیں، جبکہ صرف 9 فیصد چہرے پر تھپڑ کو جائز قرار دیتے ہیں۔ 30 فیصد کا خیال ہے کہ کبھی کبھار فیزیکی ہی واحد طریقہ ہے جس سے بچے کو بہتر برتاؤ پر لایا جا سکتا ہے۔
مرد اور خواتین میں رویوں کا فرق
مطالعے میں والدین کے رویوں میں واضح جنسی فرق بھی سامنے آیا ہے:
- 40 فیصد مردوں کا خیال ہے کہ بچوں کو بہتر برتاؤ سکھانے کے لیے جسمانی سزاؤں کی ضرورت ہے، جبکہ یہ تناسب خواتین میں صرف 25 فیصد ہے
- 46 فیصد مردوں کے مطابق جب بچہ تشدد کرے تو جسمانی سزا جائز ہے، خواتین میں یہ شرح 33 فیصد ہے
تشدد کے اثرات کے بارے میں مختلف آرا
مرد جسمانی سزاؤں کو زیادہ مثبت اثرات سے منسلک کرتے ہیں جیسے بچے میں اچھے اور برے کی تمیز پیدا ہونا۔ جبکہ خواتین ان کے منفی اثرات جیسے فوری چوٹیں، ذہنی صحت کے مسائل اور تشدد کی معمولیت پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔
بچپن کے تجربات کا موجودہ رویوں پر اثر
دو تہائی والدین کا کہنا ہے کہ ان کی اپنی پرورش کا طریقہ ان کی والدین کی حیثیت سے تربیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ شرح ان والدین میں 79 فیصد تک پہنچ جاتی ہے جو خود بچپن میں تعلیمی تشدد کا شکار رہے ہوں۔
فاؤنڈیشن فار چائلڈ ہڈ کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ عام تعلیمی تشدد اب بھی گہرائی سے معمول بنا ہوا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ روک تھام کے پروگراموں کو والدین کو ایک ہم جنس گروپ سمجھنے کی بجائے ان کے مختلف خیالات اور تصورات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
