یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے محققین نے ایک اوپن سورس ماڈل تیار کیا ہے جو ریاضی اور کوڈنگ کے میدان میں OpenAI کے ماڈل o1 کے برابر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ ماڈل صرف 450 ڈالر کی لاگت اور 19 گھنٹوں کے اندر تیار کیا گیا ہے، جو کہ موجودہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے مقابلے میں انتہائی کم خرچ ہے۔
NovaSky ریسرچ ٹیم نے Sky-T1-32B-Preview نامی یہ ماڈل تیار کیا ہے، جو OpenAI کے o1-preview کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ماڈل کو تیار کرنے کے لیے صرف 8 Nvidia H100 GPUز استعمال کیے گئے، جس کی وجہ سے لاگت میں نمایاں کمی آئی۔ ماڈل کو Qwen2.5-32-Instruct کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تیار کیا گیا، جسے QwQ-32B-Preview نامی ایک اور اوپن سورس ماڈل کے ذریعے ڈیٹا پر تربیت دی گئی۔
ریسرچ ٹیم کے مطابق، “ہم نے مختلف شعبوں کے ڈیٹا کو یکجا کیا، جو پیچیدہ استدلال کی ضرورت رکھتے ہیں۔ اس کے بعد ہم نے GPT-4o-mini کی مدد سے ڈیٹا کو دوبارہ پروسیس کیا تاکہ اس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔”
یہ ماڈل ریاضی اور کوڈنگ کے ٹیسٹس میں o1-preview کے برابر یا اس سے بہتر نتائج دکھانے میں کامیاب رہا۔ تاہم، GPQA-Diamond جیسے پیچیدہ فزکس کے ٹیسٹس میں یہ OpenAI کے ماڈل سے پیچھے رہا۔ NovaSky نے اس ماڈل کے تمام اجزاء، بشمول ڈیٹا، وزن، اور تکنیکی تفصیلات، کو اوپن سورس کے طور پر جاری کیا ہے۔
یہ پیشرفت اس بات کی عکاس ہے کہ اعلیٰ سطحی استدلال کی صلاحیتوں کو کم لاگت اور مختصر وقت میں کیسے تیار کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ OpenAI اپنے نئے ماڈل o3 کو متعارف کروانے کی تیاری کر رہا ہے، NovaSky کے اس ماڈل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں اوپن سورس حل بھی کس قدر موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ پیشرفت نہ صرف مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نئے امکانات کا دروازہ کھولتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ کم وسائل کے ساتھ بھی اعلیٰ کارکردگی کے ماڈلز تیار کیے جا سکتے ہیں۔
