ٹول پلازہ پر موبائل فون کے ذریعے ادائیگی کرنے والے ڈرائیورز کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک صارف نے بتایا کہ انہیں ٹول پلازہ پر موبائل فون سے ادائیگی کرنے پر جرمانہ اور ڈرائیونگ لائسنس کے تین پوائنٹس کٹنے کا نوٹس موصول ہوا۔ اس واقعے کے بعد صارفین کے درمیان بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ عمل واقعی غیر قانونی ہے۔
سڑک کے قوانین کی ماہر وکیل لورین سپیرا کے مطابق، ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال قطعی طور پر ممنوع ہے، چاہے وہ ٹول پلازہ پر ادائیگی کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ فرانس کے روڈ کوڈ کے آرٹیکل R412-6-1 کے تحت، گاڑی چلاتے ہوئے ہاتھ میں موبائل فون لے کر بات کرنا یا کسی بھی طرح استعمال کرنا ممنوع ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر 135 یورو کا جرمانہ اور ڈرائیونگ لائسنس کے تین پوائنٹس کاٹنے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
وکیل نے واضح کیا کہ ٹول پلازہ پر ادائیگی کرتے ہوئے موبائل فون کا استعمال قانونی استثنیٰ میں شامل نہیں ہے۔ تاہم، اگر ادائیگی اسمارٹ واچ یا کسی اور آلے کے ذریعے کی جائے جو ہاتھ میں نہ ہو، تو یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
سوشل میڈیا پر صارفین کے درمیان اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر موبائل فون سے ادائیگی غیر قانونی ہے، تو پھر ٹول پلازہ پر اس کی سہولت کیوں فراہم کی جاتی ہے؟ ایک صارف نے کہا، “اگر یہ غیر قانونی ہے، تو پھر ڈرائیو تھرو ریسٹورنٹس میں موبائل سے ادائیگی کرنے پر بھی جرمانہ ہونا چاہیے۔”
وکیل کے مطابق، اگرچہ گاڑی ٹول پلازہ پر رکی ہوئی ہو، پھر بھی اسے “حرکت میں” تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ عوامی سڑک کا حصہ ہے۔ تاہم، ریسٹورنٹس کے ڈرائیو تھرو میں صورتحال مختلف ہو سکتی ہے، کیونکہ وہاں گاڑی عام طور پر پارکنگ میں ہوتی ہے، جو ایک محفوظ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
اگر کسی ڈرائیور کو اس طرح کا جرمانہ موصول ہو، تو وہ اسے عدالت میں چیلنج کر سکتا ہے۔ تاہم، وکیل نے خبردار کیا کہ اگر عدالت کو دلائل قائل نہ کریں، تو سزا میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
یہ معاملہ ایک بار پھر ڈرائیورز کو یاد دلاتا ہے کہ گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون کا استعمال نہ صرف خطرناک ہے، بلکہ قانونی طور پر بھی قابل سزا ہے۔
