غزہ کی پٹی میں جاری جنگ بندی کی پہلی مرحلے کی کامیابی اب سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ یہ جنگ بندی، جو 19 جنوری کو شروع ہوئی اور 1 مارچ تک جاری رہنے کی توقع تھی، حالیہ دنوں میں اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کے باوجود کمزور ہوتی نظر آرہی ہے۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے بھی اس صورتحال کی سنگینی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارروائیوں کے حالات بگڑتے جارہے ہیں۔
ہفتے کو تین اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ان کی حالت کو “خوفناک” قرار دیا۔ رہائی کے بعد یہ قیدی غزہ میں حماس کے پرچم کے نیچے ایک اسٹیج پر پیش کیے گئے، جہاں ان کا جسمانی حالت بہت خراب نظر آرہی تھی۔ اس منظر پر نیتن یاہو نے شدید تنقید کی اور اسے ایک “ظالم تماشا” قرار دیا۔
اسرائیل کے ہسپتال شیبا میں داخل کیے گئے قیدیوں کی حالت بگڑ گئی ہے، اور ہسپتال کی ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ یہ ان کی رہائی کے بعد کی چوتھی بار ہے جب ہسپتال میں قیدیوں کو لایا گیا ہے۔ فلسطینی قیدیوں کی تنظیم نے اسرائیلی فوج پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے قیدیوں کے اہل خانہ پر حملہ کیا، جبکہ اسرائیلی فوج نے اپنے آپریشن کو محض احتیاطی اقدامات قرار دیا۔
اس تناظر میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے غزہ کے کنٹرول کے لیے امریکی منصوبے کا ذکر کیا، جسے نیتن یاہو نے سراہا، لیکن اس نے امن معاہدے کے مستقبل پر سوالات اٹھائے ہیں۔ حماس کے عہدیداروں نے اس منصوبے کو “نسلی صفائی” کا اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ امن مذاکرات کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
دوسری جانب، غزہ میں جاری جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی مذاکرات میں بھی تاخیر ہو رہی ہے، جو کہ 27 جنوری کو قطر میں شروع ہونے والے تھے۔ اسرائیلی حکومت نے قطر میں ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ مصر نے عرب ممالک کی ایک سمٹ کا اعلان کیا ہے تاکہ فلسطینی مسئلے پر بات چیت کی جا سکے۔
اس صورتحال کے پیش نظر، عالمی برادری کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا یہ جنگ بندی برقرار رہے گی یا حالات ایک بار پھر بگڑ جائیں گے۔
