پیرس: فرانس کی گرین پارٹی (EELV) نے غذائی مسائل کے حل کے لئے ایک انقلابی قدم اٹھانے کی تیاری کر لی ہے۔ گرین پارٹی کے قانون ساز ایک نئے اقدام کی تجویز پیش کرنے جا رہے ہیں جس کے تحت شہریوں کو ہر ماہ “فوڈ ویٹل کارڈ” پر 150 یورو کا کریڈٹ دیا جائے گا۔ یہ تجرباتی تجویز “سب کے لئے غذائی سماجی تحفظ” قائم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے اور اسے گرین پارٹی کے پارلیمانی اجلاس کے دوران جمعرات، 20 فروری 2025 کو بحث کے لئے پیش کیا جائے گا۔
یہ کارڈ ہر فرد کے لئے دستیاب ہوگا اور اسے جمہوری طور پر تصدیق شدہ مقامات پر استعمال کیا جا سکے گا، جیسے کہ EELV کے نائب بورس ٹورنیئر نے پیرس میں ایک حالیہ پریس کانفرنس میں وضاحت کی۔ مجوزہ قانون سازی پانچ سالہ آزمائشی مدت کے لئے کہی گئی ہے اور یہ گرین پارٹی کے وقف شدہ پارلیمانی اجلاس میں تیسرے نمبر پر ایجنڈے کا حصہ ہوگی، جو ان کی قانون سازی کی تجاویز پیش کرنے کے لئے مختص ہوتا ہے۔
اس اقدام کا مقصد تمام علاقوں میں ماڈلز کی آزمائش کے لئے ایک فریم ورک فراہم کرنا ہے، تاکہ ایک پائیدار غذائی سماجی تحفظ کا نظام تشکیل دیا جا سکے۔ اس منصوبے کو چارلس فورنیر، جو اس تجویز کے پیچھے ہیں، نے ایک قومی فنڈ کے ذریعے حمایت کرنے کی تجویز دی ہے، جو مقامی فوڈ بینکس کی کارکردگی کو سبسڈی فراہم کرے گا۔ اس اقدام کی مالیاتی ساخت 50% سرکاری فنڈز، 25% مقامی حکام اور 25% شہریوں کی رضاکارانہ شراکت کے ذریعے مالی اعانت فراہم کرنے کے لئے ڈیزائن کی گئی ہے۔
یہ تجویز نہ صرف مالی امداد فراہم کرنے کی ہے بلکہ اس میں ایک “بنیادی حق برائے غذا” کے دفاع کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ یہ اقدام صارفین کو فائدہ پہنچائے گا، جو اپنی مرضی کے مطابق اشیاء خرید سکیں گے، اور کسانوں کو ان کی مصنوعات کے لئے بہتر معاوضہ ملے گا، جیسا کہ بورس ٹورنیئر نے بیان کیا۔
اس وقت فرانس میں تقریباً 40 مقامی سطح پر شروع کی گئی فوڈ بینکس ہیں جو کسانوں سے صارفین تک مختصر تقسیم چینلز کی سہولت فراہم کرتی ہیں اور یہ ماہانہ شراکتوں کے ذریعے معاونت حاصل کرتی ہیں۔ مجوزہ فنڈ کا مقصد ان مقامی فوڈ بینکس کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ ان کو ایک رسمی ڈھانچہ اور معاونت فراہم کی جا سکے۔
گرین پارٹی مئی 2024 سے فرانسیسی آئین میں حق برائے غذا کو شامل کرنے کی وکالت کر رہی ہے، تاکہ ریاست کو اس حق کی حفاظت کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کا پابند بنایا جا سکے، جیسا کہ سینیٹر ریمونڈ پونسیٹ مونگے نے بیان کیا۔
یہ اقدام فرانس میں غذائی عدم تحفظ کے مسائل کے حل کی سمت میں ایک اہم قدم ہے اور غذائی فلاح و بہبود کی جستجو میں دیگر ممالک کے لئے ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔
