پاکستان کی شمال مغربی سرحد پر ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاکستانی فوج نے افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے 54 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ خیبر پختونخوا کے شمالی علاقے میں پیش آیا، جہاں شدت پسندوں کے ایک گروہ نے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ فوج کے مطابق، یہ عسکریت پسند گروہ اپنے غیر ملکی آقاؤں کی ہدایت پر پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کا ارادہ رکھتا تھا۔
فوجی ذرائع کے بیان کے مطابق، سرحدی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کی نقل و حرکت کا پتہ لگا کر فوری کارروائی کی۔ اس دوران بڑی مقدار میں ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ فوجی حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور عسکریت پسندوں کو تین اطراف سے گھیر کر نشانہ بنایا گیا۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں عسکریت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے۔ پاکستانی حکومت افغانستان کی طالبان حکومت کو ان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر مورد الزام ٹھہراتی ہے، جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ عسکریت پسندوں کے غیر ملکی آقا انہیں پاکستان میں دراندازی پر اکسارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی تعداد ملک کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں ایک اہم کامیابی ہے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری عسکریت پسندانہ کارروائیوں کے نتیجے میں رواں سال کے آغاز سے لے کر اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ یہ واقعات پاکستان کے لئے ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں، اور ملکی سکیورٹی فورسز ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔
