اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے ہیں جس کے نتیجے میں ایک دن میں 400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان حملوں کا آغاز حماس کے حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔
غزہ کے مستقبل کے انتظامات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پر امریکی کنٹرول کی تجویز دی ہے، جس کے خلاف عرب ممالک نے ایک متبادل منصوبہ پیش کیا ہے جس کو برطانیہ سمیت دیگر ممالک کی حمایت حاصل ہے۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں اور لاشوں کی تبادلہ کاری کے عمل میں 25 افراد کا تبادلہ ہوا ہے، جس میں 1,700 افراد کا تبادلہ شامل ہے۔
پچاس ہزار سے زائد فلسطینی اور 400 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً تمام غزہ کے باشندے بے گھر ہو چکے ہیں۔ غزہ کی تعمیر نو کے لئے اربوں ڈالر کی ضرورت ہوگی۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کے شہریوں کو جنوبی علاقوں سے فوری طور پر نکل جانے کی ہدایت کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ خان یونس اور بنی سہیلا کے علاقے کو فوری طور پر خالی کر دیا جائے کیونکہ ان علاقوں میں بڑے حملے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
غزہ کی صحت کی وزارت کا کہنا ہے کہ شمالی علاقے کے تمام سرکاری ہسپتال خدمات سے باہر ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی حملوں نے ناصر ہسپتال کو بھی تباہ کر دیا ہے جہاں طبی سامان موجود تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ میں قحط سے بچنے کے لیے اسرائیل کو ‘سفارتی وجوہات’ کی بنا پر وہاں خوراک کی فراہمی جاری رکھنی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے محدود پیمانے پر خوراک کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ انسانی بحران پیدا نہ ہو۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ویٹیکن سٹی میں اسرائیلی صدر کے ساتھ ملاقات میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی بنیادوں پر امداد کو فوری طور پر وہاں پہنچنا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی UNRWA نے غزہ میں اپنے 300 کارکنوں کی ہلاکت کو “خوفناک سنگ میل” کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہلاکتیں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہوئیں اور ان کی مذمت کی جانی چاہیے۔
اسرائیل اور حماس کے مابین جاری مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہ ہونے پر اسرائیل نے غزہ میں زمین پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ یہ حملے غزہ کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں کیے جا رہے ہیں۔
غزہ کی حالیہ صورتحال نے عالمی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور مختلف ممالک نے فوری طور پر انسانی مدد کی اپیل کی ہے۔
