نیس میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی سمندری کانفرنس کے دوران سمندر کی حفاظت کے لئے ایک نیا بین الاقوامی معاہدہ سامنے آیا، جس کا مقصد بین الاقوامی سمندری علاقوں میں حیاتیاتی تنوع کی حفاظت اور پائیدار انتظام کو یقینی بنانا ہے۔ اس معاہدے کو اب تک 134 ممالک نے دستخط کیا ہے اور 49 ممالک کے ساتھ ساتھ یورپی یونین نے اس کی توثیق کر دی ہے۔ تاہم، اس معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے لئے 60 ممالک کی توثیق ضروری ہے۔
یہ معاہدہ ان سمندری علاقوں پر لاگو ہوگا جو کسی بھی ملک کی حدود میں نہیں آتے، یعنی بین الاقوامی سمندری علاقے جو دنیا کی تقریباً نصف سطح پر مشتمل ہیں۔ یہ معاہدہ ان علاقوں میں حیاتیاتی تنوع کی حفاظت اور استعمال کے لئے اقدامات فراہم کرے گا۔
امریکہ نے بھی 2023 میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، البتہ اس کی حتمی توثیق موجودہ سیاسی حالات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔ اسی دوران، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سمندری کان کنی کے لئے اجازت نامے جاری کرنے کی حالیہ فیصلے نے اس معاہدے کی عمل درآمد کی پیچیدگیوں کو بڑھا دیا ہے۔
معاہدے کے تحت مستقبل کی کانفرنس آف پارٹیز (COP) ان علاقوں میں محفوظ سمندری مقامات تشکیل دے سکتی ہے جو حیاتیاتی اعتبار سے نایاب یا خطرے میں ہیں۔ تاہم، یہ فیصلے عام طور پر اتفاق رائے سے کیے جائیں گے، اور اگر کوئی تعطل ہو تو تین چوتھائی اکثریت سے فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
معاہدہ ان سمندری وسائل کے منصفانہ اور مساوی اشتراک کو بھی فروغ دیتا ہے جو کسی کی ملکیت نہیں ہیں، تاکہ ترقی پذیر ممالک بھی ان کے فوائد سے محروم نہ رہ جائیں۔ اس میں سائنسی وسائل کا اشتراک اور ممکنہ آمدنی کی تقسیم شامل ہے۔
مستقبل میں سمندری سرگرمیوں کی اجازت دینے سے پہلے ان کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینا لازمی ہوگا، اور ممالک کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا کوئی سرگرمی قابل اجازت ہے یا نہیں۔ معاہدے میں فوجی سرگرمیوں کو شامل نہیں کیا گیا، البتہ دیگر سرگرمیوں جیسے ماہی گیری، سمندری نقل و حمل اور کان کنی کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔
یہ معاہدہ عالمی سطح پر سمندری حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو نہ صرف موجودہ بلکہ آئندہ نسلوں کے لئے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے مکمل نفاذ کے لئے عالمی شراکت داری اور تعاون اہم ہوگا۔
