نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے جمعہ کو ہونے والے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہی۔
اسرائیل نے جمعہ کے روز ایران کے جوہری اور فوجی مقامات پر وسیع پیمانے پر حملے کیے، جس کا مقصد جوہری تنصیبات اور میزائل فیکٹریوں کو نشانہ بنانا تھا۔ ایرانی سفیر نے یو این کو آگاہ کیا کہ ان حملوں میں 78 افراد ہلاک اور 320 زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ان حملوں کو ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ایک طویل آپریشن کا آغاز قرار دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، اہم یورینیم افزودگی مرکز نتنز میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں جبکہ ایران کے انقلابی محافظوں کے سربراہ حسین سلامی کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے اسرائیل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پاکستانی سفیر نے اسرائیل کی ‘ناجائز اور بلاجواز جارحیت’ کی مذمت کرتے ہوئے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے اور اسرائیل کی جارحیت کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی انڈر سکریٹری جنرل برائے سیاسی امور، روزمیری ڈیکارلو نے کہا کہ حملوں کے اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں اور فریقین کو زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کے ذریعے پرامن حل ہی سب سے بہترین راستہ ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل، رافیل گراسی نے بھی جوہری تنصیبات پر حملوں کے خطرات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ وہ جلد ہی خطے کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
پاکستان نے ایران کے خود دفاع کے حق کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیل کی فوجی کارروائی کی مذمت کی۔ پاکستانی حکومت نے واضح کیا کہ اسرائیل کے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں اور عالمی برادری کو اس جارحیت کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب سے بات چیت میں اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کی اور ایران کے ساتھ پاکستان کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
