واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک قریبی ساتھی نے ٹیکنالوجی کے معروف صنعتکار ایلون مسک کی فوری طور پر امریکہ سے بے دخلی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسک کی متعدد کمپنیوں کا امریکی معیشت میں نمایاں کردار ہے۔
یہ بیان اس وقت دیا گیا جب مسک کی ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ کی خبریں سامنے آئیں۔ ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کی بعض پالیسیز اور بیانات امریکی مفادات کے خلاف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کی بے دخلی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
تاہم، مسک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایلون مسک نے امریکی ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے اور ان کی کمپنیوں نے ہزاروں امریکیوں کو روزگار فراہم کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسک کے بغیر امریکی ٹیکنالوجی کا شعبہ شدید نقصان اٹھا سکتا ہے۔
سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مطالبہ ٹرمپ کے سیاسی مقاصد کا حصہ ہوسکتا ہے، جس کا مقصد ان کے حامیوں کی توجہ حاصل کرنا ہے۔ دوسری جانب، ایلون مسک نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا ہے۔
یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ مطالبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے یا محض سیاسی بیان تک محدود رہتا ہے۔ فی الحال، امریکی حکام اور کاروباری برادری اس معاملے پر خاموش ہیں، لیکن مستقبل میں اس کی گونج ضرور سنائی دے سکتی ہے۔
