ایلون مسک، جو ٹیسلا اور اسپیس ایکس جیسی کمپنیوں کے مالک ہیں، کو ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک بڑا نام تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم، حال ہی میں کیلیفورنیا کی ایک عدالت میں زیر سماعت مقدمے کے دوران ان کے وکلا نے دعویٰ کیا کہ وہ کمپیوٹر کا استعمال نہیں کرتے۔ وکلا نے عدالت کو بتایا کہ مسک کے موبائل فونز اور ای میلز کو سرچ کیا جا سکتا ہے، لیکن کمپیوٹر کے بارے میں یہ دعویٰ حیران کن ہے۔
یہ مقدمہ ایلون مسک اور چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی کے درمیان جاری قانونی تنازع کا حصہ ہے۔ مسک نے اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سام آلٹمین کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے ان پر منافع کے حصول کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ مقدمے میں دونوں فریقین کی جانب سے شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔
یہ دعویٰ اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ ایلون مسک اکثر سوشل میڈیا پر اپنے لیپ ٹاپ کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ وہ کئی بار گیمنگ کے حوالے سے ایسی پوسٹس کر چکے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں۔ دسمبر 2024 میں انہوں نے ایک لیپ ٹاپ کی تصویر پوسٹ کی تھی جس کے ساتھ لکھا تھا کہ یہ ان کا تین سال پرانا لیپ ٹاپ ہے۔
وکلا کے مطابق، ایلون مسک زیادہ تر اپنے تمام کام کے لیے موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں اور اس کے لیے بڑے ڈسپلے والے فونز کو ترجیح دیتے ہیں۔ مقدمے کے دوران اوپن اے آئی نے ان الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ دونوں فریقین کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات اور ای میلز کو شواہد کے طور پر استعمال کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
