تہران: ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے ایک پیغام میں “12 روزہ مسلط کردہ جنگ” کے خاتمے کا اعلان کیا ہے، جو ایران پر اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی تھی۔ انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایران کی عظیم قوم کی بہادرانہ مزاحمت کے بعد ہم ایک جنگ بندی اور اس جنگ کے خاتمے کے گواہ ہیں، جو اسرائیل کی مہم جوئی اور اشتعال انگیزی کی وجہ سے مسلط کی گئی تھی۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا، تاہم ابتدائی طور پر دونوں فریقین کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ ایران نے اسرائیل پر متعدد میزائل داغے، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔
مسعود پزیشکیان نے مزید کہا کہ ایران کا مقصد کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ اس کا جوہری پروگرام خالصتاً پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے پرعزم ہے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران جنگ بندی کی شرائط کا احترام کرے گا، بشرطیکہ اسرائیل بھی ان کی پاسداری کرے۔ انہوں نے ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر صہیونی حکومت جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کرتی تو ایران بھی ایسا نہیں کرے گا۔
اسرائیل نے اعلان کیا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے بعد ایران پر مزید حملے نہیں کیے۔ تاہم اسرائیل نے تہران کے قریب ایک ریڈار اسٹیشن کو تباہ کیا۔ ایران نے بھی اعلان کیا کہ اگر اسرائیل اپنی جارحیت بند کر دے تو وہ حملے نہیں کرے گا۔
امریکی صدر کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے فوری بعد تہران میں شدید دھماکے سنائی دیے گئے، جو جنگ کے آغاز کے بعد سے دارالحکومت میں سب سے شدید تھے۔ ایران نے امریکی اڈے پر بھی میزائل داغے، جبکہ اسرائیل نے اس جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لیے وہ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ اسرائیل اپنی کارروائیاں صبح چار بجے تہران کے وقت تک روک دے۔ اگر اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایران اس کا بھرپور جواب دے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے فوج کو ایرانی اہداف پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ تنازع خطے میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے، لیکن فی الحال دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔
