تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان حالیہ دنوں میں پرتشدد تصادم نے جنم لیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع کی وجہ سے یہ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ صورتحال جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں تھائی لینڈ کی وزارت صحت کے مطابق 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں ایک فوجی بھی شامل ہے، جبکہ چالیس سے زائد افراد زخمی ہیں۔ شمال مشرقی صوبوں سے 138,000 سے زیادہ لوگوں کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ کمبوڈیا نے ایک ہلاکت اور پانچ زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔
یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات انتہائی کمزور ہو گئے ہیں۔ اس کشیدگی کی جڑیں کئی دہائیوں پرانے سرحدی تنازع میں پیوستہ ہیں، جو اب فوجی جھڑپوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔
دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر پہل کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جب کہ تھائی لینڈ نے کمبوڈیا پر شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد تھائی لینڈ نے کمبوڈیا کے سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا ہے اور اپنے سفارتکار کو واپس بلا لیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل نے اس معاملے پر غور کے لئے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ تھائی لینڈ نے کہا ہے کہ وہ اس بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لئے تیار ہے، جبکہ کمبوڈیا نے بھی مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ عالمی برادری، بشمول امریکہ، چین، فرانس، اور یورپی یونین، دونوں ممالک سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ اس تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
یہ تنازع اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں میں جنگی طیارے، ٹینک، اور فوجیں تعینات کر دیں۔ بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے کہ یہ صورتحال خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
