واشنگٹن اور یورپی دارالحکومتوں کے درمیان تعلقات میں ایک خطرناک موڑ آگیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈنمارک کے زیر انتظام خود مختار علاقے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں نے شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کو ایک ایسے بحران میں ڈال دیا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ یورپی رہنما اس بات پر حیران ہیں کہ اب انہیں اپنے ہی اتحادی، امریکہ، سے بچاؤ کی تدبیریں کرنی پڑ رہی ہیں۔
یورپی ردعمل: آپریشن آرکٹک اینڈیورنس
حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ جمعرات فرانس اور ڈنمارک سمیت کئی یورپی ممالک نے گرین لینڈ میں اپنی فوجیں اتار دیں۔ اس مشترکہ فوجی مشق کا کوڈ نام ‘آرکٹک اینڈیورنس’ رکھا گیا ہے۔ یہ اقدام صدر ٹرمپ کی طرف سے بار بار گرین لینڈ کو امریکہ کی ضرورت قرار دینے اور اس پر زبردستی قبضے کی دھمکیوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ آرکٹک خطے میں روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکہ کو اس علاقے پر کنٹرول درکار ہے۔
واشنگٹن مذاکرات ناکام، بنیادی اختلاف برقرار
اس بحران کو سلجھانے کی ایک کوشش میں واشنگٹن میں ڈنمارک، گرین لینڈ اور امریکہ کے وزراء کے درمیان ہونے والی ملاقات بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے ملاقات کے بعد تسلیم کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان گرین لینڈ کے مستقبل کے حوالے سے “بنیادی اختلاف” پایا جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد یورپی ممالک ٹرانز اٹلانٹک تعلقات میں تیزی سے آنے والی خرابی کو بے بسی سے دیکھ رہے ہیں۔
نیٹو کا دفاعی ڈھانچہ الٹا پڑ گیا
سیکیورٹی امور کی ماہر گیسین ویبر کے مطابق یہ صورتحال نیٹو کے لیے “غیر معمولی” ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “نیٹو بنیادی طور پر ایک دفاعی اتحاد ہے جس کا مقصد بیرونی خطرات کو روکنا ہے۔ لیکن اب بالکل الٹا ہو رہا ہے: ہم [امریکی مداخلت] کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔” ان کے مطابق اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نیٹو کمزور ہو رہا ہے، خاص طور پر اپنی علاقائی دفاع اور روک تھام کی صلاحیتوں کے حوالے سے۔
نیٹو کے خاتمے کا خدشہ: یورپ کی حساسیت
ماہرین کے مطابق بدترین صورت حال، اگرچہ اس کے امکانات کم ہیں، نیٹو کے مکمل خاتمے کی شکل میں سامنے آ سکتی ہے۔ گیسین ویبر کا کہنا ہے کہ ایسا ہوا تو “یہ سب کچھ کا خاتمہ ہوگا۔” یورپی ممالک، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اپنی سیکیورٹی کی ساخت امریکہ پر انحصار کرتے آئے ہیں، اس صورت میں انتہائی غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ ویبر کے مطابق یورپ انٹیلی جنس اور جدید دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے واشنگٹن پر انتہائی انحصار کرتا ہے۔
یورپی دفاعی بجٹ میں اضافے کی راہ
اس بحران نے یورپی ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے پر مجبور کر دیا ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے گذشتہ روز فوج سے خطاب میں یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں میں “تیزی سے اور مضبوطی سے” اضافہ کریں۔ کئی یورپی ممالک پہلے ہی اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کر رہے ہیں اور اپنے جی ڈی پی کا 5 فیصد دفاع پر خرچ کرنے کا عہد کر چکے ہیں۔
مشترکہ یورپی فوج کا منصوبہ
یورپی یونین، جس کا دفاعی معاملات میں کردار محدود رہا ہے، نے بھی مشترکہ ہتھیاروں کی خریداری جیسے اقدامات شروع کیے ہیں۔ یورپی کمشنر برائے دفاع اینڈریس کیوبیلیس نے 100,000 فوجیوں پر مشتمل ایک مشترکہ یورپی فوج قائم کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق یورپی یونین کے 81 فیصد شہری مشترکہ دفاعی پالیسی کے حق میں ہیں۔
تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ اس بحران سے نکلنے کے لیے یورپی رہنماؤں میں “سیاسی ہمت” درکار ہوگی۔ جبکہ نیٹو کے سابق ڈچ ایڈمرل روب باور کا خیال ہے کہ یہ اتحاد “امریکہ کے لیے قربان کرنے کے لیے بہت اہم ہے،” موجودہ صورتحال یورپ کو اپنی سلامتی کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔
