تشویشناک واقعہ اور تازہ ترین اعداد و شمار
میکسیکو کے مرکزی ریاست گواناجواٹو میں ایک پارک میں ہونے والے مسلح حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ کم از کم آٹھ بچے زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی حکام کے جمعرات کے روز جاری کردہ تازہ بیلنس کے مطابق یہ واقعہ منگل کی شام سان فرانسسکو ڈیل رینکون نامی قصبے میں پیش آیا۔
ریاستی اٹارنی جنرل گیرارڈو واسکیوز نے میڈیا کو بتایا کہ حملے کے دوران 36 سالہ ایک شخص موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ 24 سالہ دوسرا شخص ہسپتال منتقل ہونے کے بعد انتقال کر گیا۔
بچوں کی حالت اور حکام کی پریس کانفرنس
میونسپلٹی نے تصدیق کی ہے کہ زخمی ہونے والے آٹھ میں سے تین نابالغ بچوں کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے جبکہ باقی پانچ “خطرے سے باہر” ہیں۔ تاہم بچوں کی عمر کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
گواناجواٹو کی گورنر لیبیا ڈینس گارسیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس واقعے کو “بالکل ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں “چھوٹی بچیاں، لڑکے اور نوجوان” زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے “پوری ریاستی طاقت کے ساتھ سخت اور ذمہ دارانہ کارروائی” کا وعدہ کیا۔
آنکھوں دیکھا حال: گواہان کی روایات
ایجنسی فرانس پریس کے نامہ نگاروں نے منگل کے روز پارک کے سامنے والے کم از کم ایک گھر پر گولیوں کے نشانات دیکھے۔ ایک بچے کی پیٹھ میں گولی کے چھرنے بھی موجود تھے حالانکہ اسے شدید زخمی نہیں سمجھا جا رہا۔
پارک کے قریب رہنے والی ماؤں کا کہنا ہے کہ منگل کی شام تقریباً ساڑھے نو بجے انہوں نے متعدد گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں، اس وقت پارک میں کھیل کے میدان میں کئی بچے موجود تھے۔
ایک ماں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، “میں اپنی بیٹی کو نہلا رہی تھی جب ہم نے بیس کے قریب گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں۔” گھر سے باہر نکل کر حالات جاننے پر انہوں نے عورتوں کو چیختی ہوئی سنا کہ “بچے مارے گئے ہیں۔”
علاقے میں گینگ کی موجودگی اور پرانی دشمنیاں
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس پارک میں گینگ اراکین کا جمع ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ایک خاتون پڑوسی نے بتایا، “اس واقعے سمیت یہاں چار بار فائرنگ ہو چکی ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ فائرنگ کے وقت پارک میں بڑی تعداد میں بچے موجود تھے۔
“ان بچوں کو ہر طرف بھاگتے ہوئے دیکھنا واقعی خوفناک تھا،” ایک اور خاتون گواہ نے اضافہ کیا۔ ریاستی پراسیکیوٹر کے دفتر نے اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
گواناجواٹ: صنعتی مرکز جہاں گینگ وار معمول بن چکی
گواناجواٹو ایک خوشحال صنعتی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی پسندیدہ منزلوں کا حامل ہے، لیکن گینگوں کے درمیان علاقائی جنگوں کی وجہ سے یہ میکسیکو کی تشدد زدہ ریاستوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ خاص طور پر کارٹل ڈی خالیسکو نویا جنریشن (سی جے این جی) اور سانتا روزا ڈی لیما کارٹل کے درمیان کشمکش نے علاقے کو عدم استحکام کا شکار بنا رکھا ہے۔
گزشتہ ماہ سلامانکا کے فٹ بال گراؤنڈ پر ہونے والے حملے میں گیارہ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے تھے۔ جون میں اسی ریاست کے شہر ایراپواٹو میں ایک محلے کی تقریب میں فائرنگ سے گیارہ افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے تھے۔
قومی سطح پر تشدد کے اعداد و شمار
میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شیین باوم نے سال کے آغاز میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کی بدولت ملک میں قتل کی شرح دس سال کے کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ تاہم منظم جرائم سے منسلک تشدد ملک کے متعدد علاقوں کو متاثر کرتا رہا ہے، جس کی تازہ ترین مثال گواناجواٹو کا یہ المناک واقعہ ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر میکسیکو میں عام شہریوں، خاص طور پر بچوں کی حفاظت کے حوالے سے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں اور علاقائی سلامتی کے منصوبوں کی ناکامی کو واضح کیا ہے۔
